19 فروری 2018 - 13:53
امریکہ اور یہودی ریاست عالمی برادری کے دو مضحک اداکار / ہمیں اپنے دفاع کے لئے کسی کی ضرورت نہیں

قائم مقام کمانڈر انچیف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دنیا بھر میں امریکی بالادستی کے زوال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج امریکہ کی بالادستی تنزلی کا شکار ہوچکی ہے اور امریکی اور صہیونی عالمی سطح پر مضحک اداکاروں میں بدل گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی نے شہید حجت الاسلام و المسلمین فضل‌اللہ محلاتی کی برسی کے موقع پر علمائے سپاہ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے 11 فروری کے دن اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے عظیم عوامی ریلیوں کی طرف اشارہ کیا: عوام کی یہ ریلیاں الہام بخش اور سابقہ برسوں سے مختلف تھیں اور ان ریلیوں نے انقلاب اسلامی کے حبداروں کے دل خوش اور ان کے ہاتھ مضبوط کردیئے۔
بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی کے خطاب کے اہم نکات:
۔ عالمی سطح پر امریکہ کی بالادستی زوال پذیر ہوچکی ہے، امریکی کسی وقت بڑی طاقت کے طور پر عالمی انتظام سنبھالے ہوئے تھے لیکن آج ان کا وہ رتبہ تنزلی کا شکار ہوچکا ہے اور امریکہ اور یہودی ریاست عالمی معاشرے میں مضحک اداکاروں میں بدل چکے ہیں۔
۔ آج امریکی میزائل کا ٹکڑا ہاتھ میں لے کر دنیا والوں کے سامنے ٹی وی اسکرین پر ظاہر ہوکر کہتے ہیں: یہ ایرانی میزائل کا ٹکڑا ہے!! یہودی ریاست کا وزیر اعظم  ایک ڈرون کا ٹکڑا لے کر میونخ کانفرنس میں کہتا ہے کہ یہ ایران ڈرون کا ٹکڑا ہے!!!
۔ وہ جھوٹے دعوے کررہے ہیں، اگر ایسا ہے تو یمن سے داغا جانے والا وہ میزائل ہدف تک کیسے پہنچا اور امریکی میزائل شکن سسٹم اس کا تدارک کیوں نہیں کرسکا؟ اب آپ تصور کریں کہ ایک میزائل کی بجائے کئی لاکھ میزائل داغے جائیں تو پھر کیا کریں گے؟
۔ امریکی میزائل دفاعی سسٹم ناکارَہ لوہے کے ٹُکڑے سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ سسٹم امریکہ نے سعودی عرب سمیت کئی ممالک کو دیا ہے، ہم پوچھتے ہیں کہ سعودی عرب میں تعینات امریکی تاد "THAAD" ۔۔ "Terminal High Altitude Area Defense" اور پیٹریاٹ سسٹمز کہاں تھے جو یمن کے ایک میزائل کا راستہ نہ روک سکے؟
۔ آج رہبر معظم امام سید ‏علی خامنہ ای نے اپنی حکیمانہ تدبیر سے دشمن کی تمام حکمت عملیوں کو ناکام بنا دیا ہے یہاں تک کہ ہم اپنے دفاع کے سلسلے میں کسی بھی ملک کے محتاج نہیں ہیں۔
۔ ہم نے عالمی پابندیوں کے سائے میں اتنی ترقی کی ہے اور پابندیاں عروج پر تھی جب ہم نے خلائی سائنسز میں اپنی جگہ بنائی۔
۔ ہم نے ایسے وقت جوہری میدان میں ترقی کی جب ہمارے دشمن ہمارے ایٹمی سائنسدانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا رہے تھے لیکن آج مختلف شعبوں میں بنیادی ڈھانچے ہم خود ہی تعمیر کرتے ہیں۔
۔ ہمارے ساتھ امریکہ کی دشمنی نہ صرف کم نہیں ہوئی ہے بلکہ تمام پہلؤ‎وں میں وسیع سے وسیع تر ہوچکی ہے؛ لیکن رہبر انقلاب اسلامی نے ان ہی حالات میں انقلاب کو اندرونی اور بیرونی دشمنیوں کے مقابلے میں آگے بڑھایا؛ امریکہ کو انفعالیت سے دوچار کیا اور اگر امریکہ آج تقابل کے کسی بھی میدان میں اپنے مقاصد تک پہنچنے سے عاجز ہے، وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور ان کے عقلی ذخائر (Rational reserves) کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
۔ دشمنوں نے اسلامی انقلاب کے خلاف انٹیلجنس اور سیکورٹی کے تمام وسائل، معاشی پابندیوں، ثقافتی یلغار اور تمام دیگر حربوں کا استعمال کیا اور یہ سارے اقدامات عالمی سطح پر ہمارے خلاف عمل میں لائے گئے لیکن نظام اسلامی آگ کی میدان میں سلامتی کی چوٹیوں تک پہنچ گیا۔
۔ ہم امریکہ، برطانیہ اور ان کے حلیفوں کے خلاف میدان میں اترے ہیں چنانچہ ہمیں اس مقابل کے تناسب سے ایک قوت ہونا چاہئے۔
۔ علاقے میں تکفیری دہشت گرد ٹولوں کے خلاف جدوجہد میں بھی نظام اسلامی کا کردار تمام مسلمانوں کے مفاد میں تھی، یہ ٹولے تمام مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں اور تکفیری دہشتگردی کا فتنہ مغربی اور استکباری دنیا کا پیدا کردہ ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالے، امریکہ اور یورپ میں اسلام کے فروغ کا راستہ روکے لیکن دشمن کی ان تمام حکمت عملیوں یا شر انگيزیوں کا نتیجہ ان ہی کی طرف پلٹ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110