26 نومبر 2017 - 10:36
یورپی ممالک کو ایران کے میزائل سسٹم کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے: جنرل سلامی

اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر جنرل سلامی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو ایران کے میزائل سسٹم کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ ایران میزائلوں کی فاضلہ میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ڈپٹی کمانڈر جنرل سلامی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو ایران کے میزائل سسٹم کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے ورنہ ایران میزائلوں کے فاصلہ میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔

جنرل سلامی نے ایران کے ٹی وی چینل ایک کے پروگرام نگاہ یک کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دفاعی میزائلوں کا رینج محدود ہے اور خطرات کے پیش نظر ہم میزائلوں کے فاصلے میں اضافہ کرتے ہیں ہمیں میزائلوں کے فاصلہ میں اضآفہ کرنے میں کوئی مشکل در پیش نہیں ہے اگر یورپی ممالک نے ہمارے میزائل سسٹم کے بارے میں اپنی روش عوض نہ کی تو ہم اپنے میزائلوں کے فاصلے میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

جنرل سلامی نے عراق اور شام میں داعش کے خاتمہ کو اسلامی محاذ کی بہت بڑی فتح اور امریکہ کی سرپرستی میں استکباری محاذ کی ذلت آمیز شکست قراردیتے ہوئے کہا کہ داعش دہشت گرد تنظیم نے عراق اور شام کے بہت بڑے حصہ پر امریکہ اور بعض عرب ممالک کی حمایت سے کنٹرول حاصل کرلیا لیکن اسلامی مزاحتمی تنظیموں نے خطے میں سامراجی طاقتوں کے شوم منصوبوں کو ناکام بنادیا۔

جنرل سلامی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یہ تصور کرتے تھے کہ شام کے سیاسی نظام کو وہ دہشت گردوں کے ذریعہ ایک سال کے اندر ختم کردیں گے لیکن اسلامی محاذ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تمام خوابوں کو چکنا چور کردیا۔ جنرل سلامی نے کہا کہ داعش کی خطے میں شکست امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی ذ لت آمیز شکست ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں داعش کی شکست کے باوجود ہوشیار رہنا چاہے کیونکہ امریکہ خطے میں داعش کی شکست کے بعد نئے منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

.......

/169