اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور نے کہا ہے کہ ہم یورپی یونین کے ساتھ علاقے کے مسائل کے حوالے سے مستقبل باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لئے ایک مشترکہ روڈ میپ کا تعین کرسکتے ہیں.
يہ بات 'سيد عباس عراقچي' نے منگل كے روز ايراني صوبے اصفہان ميں منعقدہ 'جوہري تعاون، پيشرفتوں اور كاركردگياں' كے عنوان سے سيمينار ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.
اس موقع پر انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ جوہري معاہدے كے بعد اسلامي جمہوريہ ايران اور يورپي يونين كے درميان اچھے كثير الجہتي تعلقات قائم ہے.
عراقچي نے كہا كہ ہم نے گزشتہ روز ايراني دارالحكومت تہران ميں يورپي يونين كي خارجہ پاليسي كي سيكريٹري جنرل 'ہيلگا اشمد' كے ساتھ ايران اور يورپي يونين كے درميان دوطرفہ كثير الجھتي تعلقات بشمول مالي، بينكنگ، تجارت، توانائي، نقل و حمل، انساني حقوق، ٹيكنالوجي، ثقافتي، ماحوليات اور علاقائي مسائل كے شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو مزيد فروغ دينے پر گفتگو كي ہيں.
انہوں نے مزيد كہا كہ ہم يورپي يونين كے ساتھ وہاں مرحلے پر ہيں جو مستقبل باہمي تعاون كو فروغ دے سكتے ہيں اور جوہري معاہدہ ہماري حكمت عملي ہے.
انہوں نے توانائي، تيل اور گيس كے شعبوں كو باہمي تعلقات كي ترقي كے لئے سب سے اہم عناصر قرار ديتے ہوئے كہا كہ يورپ ميں ايراني خام تيل كي برآمدات كا آغاز ہوا ہے اور اس حوالے سے ايراني اور يورپي كمپنيوں كے درميان مذاكرات انجام ہو رہے ہيں.
انہوں نے بتايا كہ ہم نے ٹوٹل كمپني كے ساتھ باہمي تعاون كي ترقي كے لئے معاہدوں پر دستخط كردئے ہيں اور دوسري يورپي كمپنيوں كے ساتھ توانائي كے شعبے ميں دوطرفہ تعلقات كو بڑھ كر اور قابل تجديد توانائي كے حوالے سے منعقدہ سيمينار ميں اس كمپنيوں كي سرمايہ كاري پر تبادلہ خيال كيا گيا.
نائب ايراني وزير خارجہ نے كہا كہ جوہري پرامن ايٹمي پروگرام كا نفاذ بہت ہي اہم ہے جو خوش قسمتي سے اسلامي جمہوريہ ايران اور يورپي يونين نے باہمي تعاون كا آغاز كيا ہے.
انہوں نے جوہري ميڈيكل سائنس كي اہميت كو اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ہم يورپي يونين كے ساتھ اس حوالے سے باہمي تعاون كي ترقي كي حمايت كرتے ہيں.
عراقچي نے جوہري معاہدے كے حوالے سے يورپي يونين كے حمايتي موقف اور ان كي بھرپور كوششوں كو سراہتے ہوئے كہا كہ بہت اہم ہے كہ تمام فريقين اس معاہدے كے مطابق عمل كريں.
انہوں نے اسلامي جمہوريہ ايران كي ديانتداري پر زور ديتے ہوئے كہا كہ عالمي ايٹمي توانائي ايجنسي كے سربراہ 'يوكيا امانو' نے اب تك 9 بار كے لئے ايران كي ديانتداري كي تصديق كي.
تفصيلات كے مطابق، ايراني اعلي جوہري مذاكرات كار' سيد عباس عراقچي' اور يورپي يونين كي خارجہ پاليسي كي سيكريٹري جنرل 'ہيلگا اشمد' كي سربراہي ميں گزشتہ روز ايراني دارالحكومت تہران ميں ايران اور يورپي يونين كے درميان اعلي سطحي مذاكرات كا تيسرا دور انعقاد كيا گيا.
اس دو روزہ مذاكرات ہر چھ ماہ ميں ايك بار تہران اور ايك بار برسلز ميں انجام پاتے ہيں اور جس ميں ايران اور يورپي يونين كے درميان دوطرفہ كثير الجھتي تعلقات بشمول مالي، بينكنگ، تجارت، توانائي، نقل و حمل، انساني حقوق، ٹيكنالوجي، ثقافتي، ماحوليات اور علاقائي مسائل كے شعبوں ميں دوطرفہ تعاون كو مزيد فروغ دينے پر گفتگو كي جاتي ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲