3 نومبر 2017 - 15:02
اسماعیل ہنیہ: حماس کے ایران کے ساتھ بہت اچھے روابط ہیں/ مزاحمت ہمارا اسٹریٹجک آپشن ہے

لبنان کے دار الحکومت بیروت میں دوسری بین الاقوامی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ہنیہ نے کہا: مقبوضہ اراضی کو آزاد کرانے کے لیے سب سے کامیاب راستہ استقامت اور مزاحمت ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لبنان کے دار الحکومت بیروت میں دوسری بین الاقوامی فلسطین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل ہنیہ نے کہا: مقبوضہ اراضی کو آزاد کرانے کے لیے سب سے کامیاب راستہ استقامت اور مزاحمت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم مغربی کنارے اور غزہ پٹی پر فلسطینی حکومت کے قیام کو روک نہیں رہے ہیں لیکن ہم غاصبوں کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔
ہنیہ نے کہا: ہم حماس اور جہاد گروہوں سمیت فلسطین کی مقبوضہ اراضی کی آزادی اور بازیابی کے خواہاں ہیں تاکہ ایک امت اور ایک رہبری ہو۔
انہوں نے زور دے کر کہا: ہمیں کوشش کرنا ہوگی کہ آپسی انتشار اور اختلافات کو درکنار کر کے ایک ساتھ فلسطین کی آزادی کے لیے جد و جہد کریں۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے کہا: اس کانفرنس نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کو امت مسلمہ کی اہم ترجیحات میں سے قرار دے دیا ہے۔
ہنیہ نے کہا: فلسطینی عوام پر جاری تاریخی ظلم اس بات کی علامت ہے کہ بالفور اعلامیہ مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرنے کے لیے تھا۔
ہنیہ نے زور دے کر کہا: اس وقت جو سب سے اہم چیلنجز ہمارے سامنے ہیں وہ بعض فلسطینی گروہوں کا غاصب حکومت کے ساتھ سازباز کے مذاکرات کے طبل بجانا ہے لیکن یاد رہے اس عمل کے نتائج امت مسلمہ بالخصوص مسئلہ فلسطین کے لئے بہت دردناک ثابت ہوں گے۔
ہنیہ نے کہا: مزاحمت ہمارا اسٹریٹجک آپشن ہے ہم مزاحمت کے ذریعے ہی اپنی سرزمینوں اور مقدس مقامات کو واپس لے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: فلسطینی گروہوں کے درمیان اختلافات ماضی سے مربوط ہیں ہم ان کے درمیان صلح و آشتی کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا: ہمیں امید ہے کہ شام میں جلد از جلد امن و شانتی قائم ہو اور یہ ملک مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے اپنے تاریخی کردار کا از سرنو آغاز کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲