اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/سلسلہ امامت کی چوتھی کڑی حضرت امام زین العابدین کے یوم شہادت کے موقع پر جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حسب عمل قدیم از خانہ حاجی علی محمد خان آرہ شالیمار عظیم الشان جلوس ذوالجناح تنظیم کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں بر آمد ہوکر امام باڑہ گلشن علی شالیمار میں اختتام پذیر ہوا، جس میں دسیوں ہزار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ باغ زینب ؑ شالیمار میں نمازظہرین کی ادائیگی کے بعد عقیدت مندوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے حضرت امام زین العابدین ؑ کی سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور آپؑ کے اقارب و انصار کے خون مقدس سے اسلام کو ابدی حیات اور سرتازگی عطا ہوئی، تاہم شہدائے کربلا کی عظیم شہادتیں اور کربلا کا فکرو پیغام صدا بصحرا ثابت ہوتا اور معرکہ کربلا تاریخ کے اوراق پر صرف ایک دلدوز حادثہ کی حیثیت سے رقم ہوا ہوتا، اگر حضرت امام زین العابدین ؑ کی قیادت میں اسیران کربلاؑ کا قافلہ کوفہ سے شام تک شہادت حسینیؑ کے اہداف و مقاصد کی تشہیر و ترویج نہیں کرتے۔
آغا صاحب نے کہا کہ اہلبیتؑ نبویؐ کی عظیم قربانیاں ہم سے دین و شریعت کی پابندی اور تحفظ کا تقاضا کر رہی ہے۔ اس موقعہ پر آغا حسن نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان برسہا برس کی محنت اور افہام و تفہیم کے بعد طے شدہ جوہری معاہدہ سے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے علحیدگی اختیار کرنے کے عزائم کو امریکی صدر کے ذہنی دیوالیہ پن اور داعش کی سرنگونی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی کی علحیدگی سے اسلامی جمہوریہ ایران کا کچھ بگڑنے والا نہیں البتہ امریکی رویہ ایران کے عزم و استقلال میں مزید تقویت کا باعث بنے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲