2 اکتوبر 2017 - 15:54

اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ عراقی علاقے کُردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد عراقی عوام بالخصوص کُردوں کے مفادات کے برعکس ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ عراقی علاقے کُردستان میں ریفرنڈم کا انعقاد عراقی عوام بالخصوص کُردوں کے مفادات کے برعکس ہے جبکہ اس کا فائدہ دہشتگردوں اور تکفیری عناصر کے حامی صہیونیوں اور بعض مغربی،عربی ملکوں کو پہنچے گا.

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل 'علی شمخانی' نے پیر کے روز تہران میں ترکی کے چیف آف جنرل سٹاف جنرل 'خلوسی آکار' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر آستانہ عمل کے تحت شام امن مذاکرات کے حالیہ اجلاس اور سیکورٹی اور دفاعی معاملات پر طے پانے والے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے ایڈمیرل شمخانی نے مزید کہا کہ ایران، ترکی اور روس کے مشترکہ تعاون سے شام میں امن و امان کے جلد قیام اور غیرعلاقائی طاقتوں کی مداخلت کے خاتمے کے لئے مدد ملے گی.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور ترکی کی مسلح افواج کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ سے انسداد دہشتگردی اور دفاعی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ ملے گا.

ایڈمیرل علی شمخانی نے عراقی کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد پر کُرد حکام کی ہٹ دھرمی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسے غیرذمدارانہ فیصلوں سے داعش کے خلاف جاری فیصلہ کن جنگ متاثر ہوگی اور اس کا نقصان کردستان علاقے کو بھی متاثر کرے گا.

خطے کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست خطے اور اسلامی ممالک کو بدامنی کے شکار کرنے کے خواہاں ہیں.

اس ملاقات میں ترک چیف آف جنرل سٹاف نے کہا کہ ترکی، عراقی حکومت اور ملکی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے.

جنرل خلوسی آکار نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، ترکی اور عراق مشترکہ تعاون کے ذریعے سے خطے میں علیحدگی کی تحریکوں اور اس متعلق تمام سازشوں کو ناکام بنادیں گے.

انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کو بھی سراہا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲