ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے 210 اراکین نے ایک متفقہ قرارداد میں عراقی علاقے کُردستان میں منعقدہ ریفرنڈم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عراقی قوم اور پورے خطے کے لئے نقصان دہ قرار دے دیا.
تفصیلات کے مطابق، ایرانی اراکین پارلیمنٹ میں اپنی متفقہ قرارداد میں کُردستان ریفرنڈم کے خلاف ایرانی حکومت اور پارلیمنٹ کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ریفرنڈم عراق میں جمہوریت کے تسلسل کو متاثر کرے گا.
اس قرارداد کو ایرانی پارلیمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن 'محمد حسین فرہنگی' نے پڑھ کر سنایا.
ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ عراق گزشتہ سالوں سے امریکی اور صہیونی سازشوں کا مرکزی شکار رہا اور عالمی سامراج قوتوں اور صہیونیوں اس ملک میں بے انتہا فسادات کئے مگر عراق کی بہادر قوم بشمول عرب، کرد، شیعہ اور سنی نے مل کے ان سازشوں کو خاک میں ملا دیا.
اس قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ عراقی قوم نے باہمی اتحاد اور تفہیم کے ذریعے ملک میں آئین کے نفاذ کو عمل میں لایا جس کی وجہ سے عراق امن و استحکام کی جانب گامزن ہوگیا.
اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ عراق نے قومی یکجہتی کے ذریعے بالخصوص مسلح افواج اور رضاکار فورس کے مشترکہ تعاون سے داعش کے دہشتگردوں کو جڑ سے اکھاڑا مگر سازشیں یہاں ختم نہ ہوئیں بلکہ کردستان میں ریفرنڈم کا مسئلہ کھڑا کرکے عراقی سالمیت اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے.
ایرانی اراکین مجلس نے مزید کہا کہ کردستان میں ریفرنڈم کے خلاف عراقی حکومت اور پارلیمٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں اور ہم خطے میں ہرگز صہیونیوں کو مہم جوئی کی اجازت نہیں دیں گے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲