2 اگست 2017 - 13:52
رہبر انقلاب اسلامی کیجانب سے ڈاکٹر روحانی کو صدارتی حکم نامہ دینے کی تقریب کل منعقد ہوگی

رہبر انقلاب حضرت 'آیت اللہ خامنہ ای' کی جانب سے ایران کے 12ویں صدر ڈاکٹر 'حسن روحانی' کو باضابطہ طور پر دستخط شدہ صدارتی حکم نامہ جسے حکم تنفیذ کہا جاتا ہے، دینے کی تقریب کل بروز جمعرات کو تہران میں منعقد ہوگی.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ رہبر انقلاب حضرت 'آیت اللہ خامنہ ای' کی جانب سے ایران کے 12ویں صدر ڈاکٹر 'حسن روحانی' کو باضابطہ طور پر دستخط شدہ صدارتی حکم نامہ جسے حکم تنفیذ کہا جاتا ہے، دینے کی تقریب کل بروز جمعرات کو تہران میں منعقد ہوگی.

تفصیلات کے مطابق، قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی 'سید علی خامنہ ای' کی جانب سے نئے ایرانی صدر کو دستخط شدہ صدارتی حکم نامہ پیش کیا جائے گا.

اس حوالے سے خصوصی تقریب صبح 10 بجے حسینیہ امام خمینی (رح) میں منعقد ہوگی جس میں اعلی حکام، حکومتی اور عسکری شخصیات شرکت کریں گے.

تمام ایرانی ٹی وی چینلز اس یادگار تقریب کو براہ راست نشر کریں گے.

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی شق نمبر 110 کے مطابق، سپریم لیڈر کو عوام کی طرف سے منتخب ہونے والے صدر کی توثیق کا اختیار حاصل ہے.

یاد رہے کہ حکم تنفید کی تقریب کے بعد ہفتہ کے روز اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری بھی منعقد ہوگی.

ڈاکٹر روحانی کی تقریب حلف برداری میں 8 ملکوں کے صدور اور 19 ممالک کے اسپیکر شرکت کریں گے.

5 اگست کو ایرانی دارالحکومت تہران میں قائم پارلیمنٹ کی ایک خصوصی تقریب میں ڈاکٹر حسن روحانی اپنے عہدے کا حلف لیں گے جس میں 11 علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے سنئیر حکام بھی شریک ہوں گے.

ایران کے صدارتی دفتر کے شعبہ اطلاعات و نشریات کے معاون پرویز اسماعیلی نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اب تک 92 غیرملکی وفود کی شرکت حتمی ہوگئی ہے تاہم اس کی تعداد میں اضافے کا امکان بھی ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے 12ویں صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی تقریب حلف برداری میں ایشیا سے 25 وفود، عربی اور افریقی خطے سے 26 اور امریکی،یورپی ریاستوں سے 30 وفود شریک ہوں گے.

ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ آٹھ صدور اور 19 اسپیکروں کے علاوہ، 9 نائب صدور اور وزیراعظم، 7 نائب اسپیکر، 11 ملکوں کے وزرائے خارجہ اور 35 ممالک کے خصوصی ایلچی اس تقریب میں شرکت کریں گے.

ایران میں صدر سربراہ مملکت اور ملکی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ ہیں اور آئین کے شق نمبر 113 کے مطابق، سپریم لیڈر کے بعد ملک کی سب بڑی سیاسی پوزیشن صدر کو حاصل ہے جو ملک میں قانون نفاذ کرنے کی ذمہ داری ان پر ہیں.

ایران میں بننے والے صدر مملکت، اپنی تقریب حلف برداری میں یہ حلف اٹھائیں گے کہ ملک کے سرکاری مذہب کی پیروی کریں گے اور اسلامی جمہوریہ کے نظام اور آئین کے تحت کام کریں گے اور اس حوالے سے مادر وطن کی سرحدوں، خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت اور قوم کے حقوق کا دفاع کریں گے.

سربراہ مملکت سپریم لیڈر اور قوم کے سامنے اس بات کی ذمہ داری لیں گے کے مجلس (پارلیمنٹ) میں پاس ہونے والے قوانین کے نفاذ پر من و عن عمل کریں گے اور وہ اپنی کابینہ اور سب سے قریبی سیاسی عہدہ سنئیر نائب صدر کے تعاون سے ملک میں صحیح سیاسی اقدامات کے نفاذ، اداروں کی شفاف کارکردگی، تعمیری منصوبہ بندی اور ملک کے مفادات کے تحت بجٹ کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲