31 جولائی 2017 - 14:43
علامہ سید ساجد علی نقوی: نوجوان معاشرے کی اساس اور مستقبل کے معمار ہیں

جے ایس او کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ یہاں تعلیم کو بہت سے مسائل در پیش ہیں، ملک میں تعلیمی نظام کو بہت سے حصوں اور درجات میں تقسیم کر دیا گیا ہے، حصول ِتعلیم کی کتنی قسمیں و درجات ہیں اور کس کس انداز کے سکول اور کالجز ہیں، غریب کیلئے اور، اور امراء کیلئے اور انکے مابین ہم آہنگی نہیں، یہی ہمارے ملک میں نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ کمرشلائز ہوچکی ہے، جسکی وجہ سے تعلیم بہت مہنگی ہوچکی ہے اور تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے نوجوانوں کی تعلیمی، اخلاقی، نظریاتی، سیاسی اور فنی تربیت ناگزیر ہے، جس سے معاشرے کی اصلاح احوال مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح بہتر طور پر انجام دی جا سکتی ہے۔ جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں 4 روزہ مرکزی تعمیر سیرت تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان طلباء معاشرے کی اساس اور مستقبل کے معمار ہیں، جن کی تعلیم و تربیت کرکے نہ صرف معاشرے کی بنیاد کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس معاشرے کے ذریعے اقوام عالم میں بلند مرتبہ و مقام بھی پایا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان معاشرے کا باہمت اور حوصلہ مند طبقہ ہیں اور وہی اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کے بعد معاشرے کو نئی روشنی اور راہوں سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے 5 نکاتی فارمولہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان دنیاوی و مذہبی تعلیم و تربیت، اخلاقیات، نظریاتی استحکام، سیاسی فکر میں ارتقاء اور فنی و شعبہ جاتی تربیت کے زیور سے منور ہو کر تخلیق ِانسانیت کا مقدس مقصد پا سکتے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نصاب تعلیم ملی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے، بحیثیت مسلمان، ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہونے کے مطابق جیسی تربیت ہونی چاہئے، ان تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے، یہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے اسے یاد رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں تعلیم کو بہت سے مسائل در پیش ہیں، ملک میں تعلیمی نظام کو بہت سے حصوں اور درجات میں تقسیم کر دیا گیا ہے، حصول ِتعلیم کی کتنی قسمیں و درجات ہیں اور کس کس انداز کے سکول اور کالجز ہیں، غریب کیلئے اور، اور امراء کیلئے اور ان کے مابین ہم آہنگی نہیں، یہی ہمارے ملک میں نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ کمرشلائز ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے تعلیم بہت مہنگی ہوگئی ہے اور تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس کیلئے دورِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا جائزہ لے کر انقلابی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں، اس کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ سرکاری اداروں میں تعلیم کی کیا حیثیت ہے۔ قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ افتخار حسین نقوی نے نوجوانوں کو عصر ِحاضر کے علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی علوم پر بھی دسترس حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر حسن عباس، شیعہ علماء کونسل ڈی آئی خان کے صدر علامہ کاظم مطہری، ضلع پشاور کے صدر آخونزادہ مجاہد علی اکبر اور جے ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر وفا عباس بھی موجود تھے۔

.......

/160