19 جولائی 2017 - 11:40
ملک پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا: علامہ ساجد علی نقوی

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا ہے کہ ملک پہلے ہی مختلف مسائل کا شکار ہے مزید کسی بحران کا متحمل نہیں ہوسکتاجے آئی ٹی رپورٹ کے بعد مختلف آرا سامنے آئیں جوجمہوری معاشرے کی عکاس ہیں سیاسی اختلاف کو سیاسی تصادم سے بننے سے بچانا ہوگاپاکستان کے اصل مسائل دہشتگردی،ناانصافی،غربت ، بے روزگاری ہے ملکی استحکام کیلئے سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر غور کرنے کی ضرورت ہے اسلامی تحریک پاکستان عام انتخابات میں حصہ لے گی ہم خیال جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر بھی غور کیا جارہاہے اسلامی تحریک پاکستان کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا ملک کی موجودہ سیاسی و امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے اہم اجلاس قائد ملت جعفریہ پاکستان و اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت میں ہوا اجلاس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ اسلامی تحریک پاکستان کے ذمہ دارروں آئندہ قومی انتخابات سے قبل سیاسی طور پر حلقوں میں جانا چاہیے وہاں رابطہ عوام مہم کے ذریعے عوام میں شعور کو بیدار کرنا چاہیے اور سیاسی منظر نامے کے تناظر میں سیاسی بحث و مباحثہ اور الیکچر کے ذریعے سیاسی استعداد کو بڑھائے جائے تاکہ آئندہ انتخاب سے قبل عوام کو انتخابات میں بھرپور مہم چلا کر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی جا سکے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان مختلف مسائل کا شکا ر ہے مزید کسی بحران ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتاجے آئی ٹی کے بعد مختلف آرا سامنے آئی ہیں جوجمہوری معاشرے کی عکاس ہونی چاہیے ہیں اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن سیاسی اختلاف کو سیاسی تصادم بننے سے بچانا ہوگا یہی ملکی استحکام و جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے ، سی پیک سمیت اہم منصوبے زیر تکمیل ہیں جس سے معاشی اعشاریے بہتر ہونگے خطے کی بدلتی صورتحال عالمی منظر نامہ پر وقوع ہونیوالے عوامل پربھی غور کرنے کی ضرورت ہے ہمیں کوشش کرنا ہوگی کہ تمام مسائل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں پانامہ لیکس اور دیگر کیسز کے حوالے سے اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے وسیع تر تناظر میں مثالی فیصلوں کی امید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مثالی فیصلے قوم کے لئے قابل قبول ہوں گے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان نے پانامہ لیکس کے حوالے سے آمدہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر مختلف سیاسی جماعتوں کے متضادبیانات کوتمام جماعتوں کا جمہوری حق قرار دیتے ہوئے موقف اپنایاکہ رپورٹ پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے بھی وسیع تر تناظر میں کیے گئے فیصلے ہی ہمارے لیے قابل قبول ہوں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲