14 جولائی 2017 - 13:46
 رہبر معظم کے خلاف شیوترویدی کی غیر مہذب زبان ناقابل برداشت:آغاحسن

انہوں نے کہا کہ ظلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کفر و شرک سے بھی بدتر اور ناقابل معافی گناہ ہے۔ ظلم کے خلاف مزاحمت انبیاؑ کی سنت ہے اور علمائے دین انبیائے کرامؑ کے وارث ہونے کے ناطے ظلم وستم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے شہر سرینگر میں جمعہ کرفیو بالخصوص مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ پر متواتر قدغن کو مداخلت فی الدین کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعة المبارک کا دن اور نماز جمعہ اپنے عبادی اور سیاسی پہلو کے اعتبار سے اسلام اور مسلمین کیلئے بے پناہ اہمیت اور تقدس کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان معاشرے کے تشخص کی واضح علامت ہے۔ عین جمعة المبارک کے موقعہ پے شہر سرینگر اور دیگر مقامات پر اعلانیہ یا بلا اعلان کرفیو نافذ کرکے ریاستی انتظامیہ جمعة المبارک کے تقدس کو پامال کر رہی ہے۔ قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ ریاستی عوام کی مذہبی آزادی سلب کرکے ظلم و تسلط کی خلاف عوام کی احتجاجی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔ آغا حسن نے کہا کہ کشمیری مظلوم قوم کی بے مثال قربانیاں اور مظلومیت ضرور رنگ لائے گی۔ قدرت اس محکوم قوم کی حالت زار پر رحم فرما کر ایسے حالات پیدا کرے گی جو کشمیری قوم کے 70 سالہ مصائب اور سیاسی بے چینی کے خاتمے کا ذریعہ بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کفر و شرک سے بھی بدتر اور ناقابل معافی گناہ ہے۔ ظلم کے خلاف مزاحمت انبیاؑ کی سنت ہے اور علمائے دین انبیائے کرامؑ کے وارث ہونے کے ناطے ظلم وستم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ رہبرمعظم حضرت امام خامنہ ای کی طرف سے کشمیری مظلومین کی حمایت میں دئے گئے بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ ایک بھارتی ٹی ۔وی چینل پر مباحثے کے دوران بی جے پی لیڈر سدھان شیو ترویدی کی طرف سے امام خامنہ ای کے خلاف غیر مہذبانہ زبان استعمال کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ حکومت ہند کشمیریوں پر ڈھائے جارہے ظلم وتشدد کی پردہ پوشی کیلئے عالم اسلام کی معزز دینی شخصیات کی توہین و تذلیل سے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعیان عالم کے سپریم دینی قائد کے خلاف ناشائستہ زبان استعمال کر کے بی جے پی لیڈر نے اپنے اسلام اور مسلم دشمن جذبات کو تشفی دینے کے ساتھ ساتھ کشمیر میں ہو رہے مظالم پر ایران کی فکرمندی کو غلط سمت دینے کی ناکام کوشش کی۔ آغا حسن نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل جیسی بدترین اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ مودی سرکار کے گرم جوش روابط کی اصل بنیاد اسلام اور مسلم دشمنی ہے۔ بھارت ان سامراجی قوتوں کے ساتھ مضبوط سے مضبوط ترین تعلقات قائم کرکے تنازعہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرواسکتا، بلکہ بھارت کی اس روش سے تنازعہ کشمیر مزیدشدت سے ابھرتا رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲