12 جولائی 2017 - 12:45
موصل کو آزاد عراقی افواج نے کرایا اور عام لوگوں کو امریکہ نے شہید کیا

برطانوی روزنامے "آئی" نے لکھا ہے کہ موصل پر امریکی قیادت میں قائم شدہ نام نہاد انسداد دہشت گردی اتحاد کی ایک ہی بار کی بمباریوں کے نتیجے میں 1000 بےگناہ شہری مارے گئے ہیں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ آئی میں مندرج پیٹرک کاکبرن کی رپورٹ نے موصل میں عینی شاہدوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی کمانڈ میں قائم عسکری اتحاد نے ایک ہی موقع پر شہر موصل میں بھی معمول سے زیادہ بمباریاں کرکے سرکاری اور نجی املاک کو بےتحاشا نقصان پہنچایا ہے اور ایک ہزار افراد کو قتل کردیا ہے۔
قُصَی موصل کا ایک عام شہری ہے جس نے کاکبرن کو بتایا: ہمارے محلے کے ایک گھر میں مورچہ بند مبینہ اسنائپر چلانے والا دہشت گرد مورچہ بند ہوچکا تھا جبکہ محلے میں مزید داعشی موجود نہیں تھے لیکن امریکی اتحاد نے اس ایک ہی داعشی کو مارنے کے لئے بےشمار بم گرائے جس کے نتیجے میں بیک وقت 600 سے لے کر 1000 تک افراد شہید ہوئے جبکہ اس گھر میں بھی کوئی داعشی نہیں تھا جس کو نشانہ بنانے کے لئے امریکیوں نے پورے محلے کو مسمار کردیا۔
اس عینی شاہد نے اپنے محلے پر امریکی بمباری سے قبل اور اس کے بعد کی ایک تصویر پیش کی اور کہا: ہمارے محلے کے ایک گھر میں کوئی داعشی دہشت گرد موجود نہیں تھا بلکہ ابو عماد کا گھرانہ اس میں سکونت پذیر تھا اور وہ پورا گھرانہ بھی اور دو راہگیر امریکیوں کے میزائل حملے میں شہید ہوئے۔
موصل کے مغرب اور مشرق میں ایک طبی رضاکار سعد عامر نے بھی کاکبرن کو بتایا: شہر کے مشرقی حصے پر ہونے والے فضائی حملے کم تھے اور بم صحیح نشانوں پر لگتے تھے لیکن مغربی حصے پر امریکیوں نے بےشمار حملے کئے جن میں کوئی قاعدہ اور ضابطہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔  
عامر کا کہنا تھا کہ موصل میں مارے جانے والے افراد کی صحیح تعداد کا کسی کو بھی علم نہیں ہے لیکن امریکی بمباریوں میں شہید ہونے والے افراد کی اکثریت 47 درجے سینی گریڈ کی اس شدید گرمی میں گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے دب گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110