اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل سفیر غلام علی خوشرو نے سعودی وزیر دفاع کے بیہودہ اور دھمکی آمیز بیان پر اعتراض کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے نام خط لکھا ہے جس میں سعودی وزیر دفاع کے دھمکی آمیز بیان اور ایران کے حدود میں جنگ کی آگ بھڑکانے جیسی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "یہ بیان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی عرب، ایران میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث اور دہشت گردوں کا حامی و مدد گار ہے۔
اس خط کا متن مندرجہ ذیل ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عالیجناب!
اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ سعودی وزیر دفاع اور بادشاہ کے نائب محمد بن سلمان کے غیر قانونی اور دھمکی آمیز بیان کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراوں۔
شہزادہ محمد بن سلمان نے 2 مئی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ ایران کی سرحدوں میں جنگ کی آگ بھڑکائیں، میں اپنے ملک پر لگائے گئے سبھی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا بیان میرے ملک کو واضح اور صریح دھمکی کے مترادف اور اقوام متحدہ کے مادہ 2 کی دفع 4 کی صریح مخالفت، نیز ایران کی سرزمین پر ہونے والی تخریبی کارروائیوں میں شمولیت نیز دہشت گردوں سے تعاون اور اتحاد کا صاف لفظوں میں اعتراف ہے جس کی حالیہ مثال سعودی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں 9 ایرانی سرحدی محافظوں کی شہادت ہے۔
یہ دھمکی اور اعتراف اس حکومت کی طرف سے ہے جو ایک مدت سے اپنے مذموم اہداف تک پہنچنے کیلئے خطے اور دیگر ممالک کیخلاف تجاوز اور ان کے اندر دہشت گردی کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔
ایران کے خلاف سعودی عرب کی نفرت آمیز سیاست کے سبب کہ جس کی جھلک مذکورہ بیان میں دیکھی جا سکتی ہے، اس خطے اور دنیا نے بہت رنج و مصائب اٹھائے ہیں۔ سعودی عرب کی غیر ذمہ دارانہ سیاست، انتہا پسند تنظیموں کی مالی امداد اور حوصلہ افزائی اور دینا بھر میں اس کے مذموم عزائم بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
سعودی حکام سمیت سب کو یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ اسی ایران مخالف جنون نے سابق سعودی باشاہ کو مجبور کیا تھا کہ وہ آٹھ سال تک ایران پر تجاوز کرنے والے صدام کی مدد کرتا رہے جس کے نتیجہ میں صرف یہی نہیں کہ لاکھوں ایرانیوں کی جان چلی گئی اور انہیں کیمیائی اسلحوں کا نشانہ بننا پڑا بلکہ کویت حتیٰ سعودی بھی اس جنگی جنون سے محفوظ نہیں رہا جو گڑھا دوسروں کے لئے کھودا تھا، آخر میں خود بھی اسی میں گر پڑے۔
90 کے عشرے میں القاعدہ اور طالبان کا قیام، 2003 سے عراق میں دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل اور گذشتہ چند سالوں میں شام اور عراق میں داعش جبھۃ النصرۃ اور دیگر تنظیموں کی مالی اور تسلیحاتی امداد، اسی ایران مخالف جنون کا نتیجہ ہے جس کے نتیجہ میں دینا بھر میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔
عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ سعودی عرب کے اس جنون پر لگام لگائے نیز اسے دنیا بھر خصوصا یمن میں دہشت گردوں اور انتہا پسند گروہوں کی امداد کو روکنے کیلئے اقدام کرے۔
سعودی عرب کے برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران کا ماننا ہے کہ امن و امان میں ہی خلیج فارس کی تمام حکومتوں کا فائدہ ہے۔ دوسروں کا سکون چھین کر کوئی بھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔ اپنے پڑوسیوں میں کسی تناو اور کشیدگی میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہم خطے میں امن و امان کے قیام اور انتہا پسندی سے مقابلہ کرنے کی خاطر گفتگو کیلئے آمادہ ہیں۔ ہم فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ سعودی عرب بھی عقل کے ناخن لے گا۔
لہٰذا آپ سے تقاضا ہے کہ اس خط کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رسمی سند کے طور پر نشر کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲