اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ايران ميں 12ويں صدارتي انتخابات كي تاريخ 19 مئي جيسے جيسے قريب آرہي ہے ايراني عوام ميں بھي ميں صدارتي انتخابات ميں حصہ لينے كے لئے بے تابي ديكھائي دے رہي ہے.
دنيا بھر كے سينئر صحافي اور عالمي ميڈيا اسلامي جمہوريہ ايران ميں صدارتي انتخابات كے كوريج كے لئے ايران كا رخ كررہے ہيں.
ايران ميں اسلامي طرز كا جمہوري نظام دنيا ميں متعارف ہوچكا ہے جس ميں عوام اپنے ووٹ كے ذريعے اپنے صدر كو منتخب كرتے ہيں.
1979 ميں ايران ميں اسلامي انقلاب كے بعد شہنشاہيت كا نظام ختم ہوا جس كے بعد ايران ميں موجود اسلامي نظام اور تشخص ميں عوام كو زندگي كرنے كا حق ميسر ہوا.
لبنان كے معروف صحافي سامي كليب نے ارنا نمائندے سے بات چيت كرتے ہوئے كہا ہے كہ ايراني عوام كو پوري آزادي كے ساتھ اپنے مستقبل كے بارے ميں فيصلہ كرنے كا حق حاصل ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ ايران ميں دوسرے جمہوري ممالك كے برعكس بہت سي سياسي تنظيميں صدارتي انتخابات ميں حصہ ليتي ہيں اور ايران ميں صدارتي انتخابات امريكہ جيسے جمہوري ملك كے برعكس صرف دو سياسي پارٹيوں كے درميان نہيں ہوتے ہيں.
جمہوري نظام كے فروغ كے لئے شفاف اور آزاد انتخابات كي اہميت كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران ميں صدارتي اور پارليماني انتخابات ہميشہ مكمل شفاف اور آزادانہ طور پر منعقد ہوتے ہيں جسكي بين الاقوامي ادارے اور مغربي حكومتيں بھي تائيد كرتي ہيں.
انہوں نے كہا كہ پيچھلے 38 سال كے دوران مغربي طاقتوں كي كوششوں كے باوجود ايراني عوام انتخابات ميں زور و شور سے حصہ لے رہے ہيں جس كي مثال كسي بھي جمہوري حكومت ميں نہيں ملتي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲