22 اپریل 2017 - 09:27
پاکستانی اسپیکر کی قم میں آیت اللہ اعرافی سے ملاقات، حرم بی بی معصومہ (س) میں حاضری

پاکستان کے اسپیکر نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اور حکومت کی نظر میں اسلامی جمہوریہ ایران ایک اہم ملک ہے اور ہم باہمی تعلقات اور اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے اسپیکر نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اور حکومت کی نظر میں اسلامی جمہوریہ ایران ایک اہم ملک ہے اور ہم باہمی تعلقات اور اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں.
پاکستانی اسپیکر کا پاک، ایران تعلقات اور اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور
ان خيالات كا اظہار پاكستان كي قومي اسمبلي كے اسپيكر 'سردار اياز صادق' نے ايران كے مذہبي شہر 'قم' كے دورے كے موقع پر سنئير ايراني عالم دين اور قدم كے ديني مدارس كے سربراہ آيت اللہ 'علي رضا اعرافي' كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كيا.

اس موقع پر انہوں نے پاكستاني قوم اور حكومت كي جانب سے ايراني عوام اور حكومت كے لئے نيك خواہشات كا اظہار كيا اور بتايا كہ دونوں ممالك كے درميان برادرانہ تعلقات مضبوط ہيں اور آئندہ بھي ايسے برادرانہ روابط اور اتحاد كو مزيد مستحكم كرنے كے لئے پُرعزم ہيں.

انہوں نے دہشتگردي اور انتہاپسندي كے خاتمے كے لئے عالم اسلام اور مسلمانوں كے درميان باہمي اتحاد اور تعاون پر زور ديا اور كہا كہ جو عناصر اسلام كے نام پر دہشتگردي كا مرتكب ہوتے ہيں وہ يقينا مسلمان نہيں ہوسكتے.

پاكستاني اسپيكر نے ايراني زائرين اور طلبا كي ميزباني كرنے پر اسلامي جمہوريہ ايران كا شكريہ ادا كيا اور مزيد بتايا كہ دونوں ممالك كے درميان باہمي اقتصادي سرگرميوں كو مزيد بڑھانے كي اشد ضرورت ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران اور پاكستان ايك دوسرے كے مضبوط تجارتي پارٹنر ہونا چاہئے اور اس مقصد كو پانے كے لئے باہمي تعلقات كو مزيد فروغ دينا ہوگا.

سردار اياز صادق نے كہا كہ ايران اور پاكستان كي بندرگاہوں كے درميان قريبي تعاون سے خطے كے ديگر ممالك كے ساتھ رابطے ميں آساني ہوگي. ہم ايراني طلبا كا پاكستاني جامعات ميں آنے كا خيرمقدم كرتے ہيں. اسلامي شعبوں ميں دونوں ممالك كے طلبا كي موجودگي سے پاك،ايران اتحاد مزيد مضبوط ہوگا.

انہوں نے بتايا كہ 23 مارچ كو ہونے والے يوم پاكستان پريڈ ميں چين،تركي اور سعودي عرب كے دستے بھي پاكستاني مسلح افواج كے ساتھ شريك ہوتے ہيں مگر ہم چاہتے ہيں مستقبل ميں برادر ملك ايران سے بھي فوجے دستے اس تقريب ميں شركت كرے اور اس كے علاوہ ہم پاكستان ميں ايراني دفاعي اور عسكري وفود كا بھي خيرمقدم كرتے ہيں.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ايران اور پاكستان كے درميان قريبي تعلقات اور اتحاد ناگزير ہے، بعض عالمي ممالك پاك،ايران مضبوط تعلقات كے خلاف ہيں اس لئے ہميں مزيد متحد ہوكر ايسے مخالف عناصر كو دو ٹوك پيغام دينا چاہئے.

كشمير ميں مسلمانوں كے خلاف تشدد كا حوالہ ديتے ہوئے سردار اياز صادق نے كہا كہ كشمير پاكستان اور بھارت كے درميان نامكمل ايجنڈہ ہے مگر ہم كشمير ميں مظالم كے خاتمے كے لئے اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل كي قراردادوں كے نفاذ كے خواہاں ہيں.

تفصيلات كے مطابق، پاكستاني اسپيكر نے قم ميں اپنے مختصر قيام كے دوران حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليھا كے مقدس روضے پر حاضري دي اور زيارت كے بعد نماز مغرب و عشا جماعت كے ساتھ ادا كيا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲