اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے ادارہ انسانی حقوق کی خصوصی مبصر برائے امور ایران کے مشن کی میعاد میں توسیع دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات تعصب اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہیں.
يہ بات 'بہرام قاسمي' نے جمعہ كے روز اپنے ايك بيان ميں اقوام متحدہ كي جانب سے ايران كي انساني حقوق صورتحال كي خصوصي رپورٹر كے مشن ميں ايك سال توسيع دينے كے ردعمل ميں كہي.
اقوام متحدہ كي انساني حقوق كونسل نے آج ايك قرارداد پاس كي جس كے تحت خصوصي انساني حقوق مبصر برائے امور ايران 'عاصمہ جہانگير' كے مشن ميں ايك سال كے لئے توسيع كردي گئي.
امريكہ، سوئڈن، مقدونيہ اور مالڈووا كے نمائندوں كي جانب سے يہ قرارداد پيش كي گئي تھي جس كے حق ميں 22 ممالك نے ووٹ ديے جبكہ 12 ملك نے اس كے مخالفت ميں ووٹ ديا اور 13 ملكوں نے اپني رائے كا اظہار نہيں كيا.
ايراني ترجمان دفترخارجہ نے كہا كہ افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ ايران كے حوالے سے اقوام متحدہ كے انساني حقوق كے مبصروں كي جانب سے گزشتہ سات سالوں سے جانبدارانہ رپورٹس تيار كي جاتي ہيں جس ميں عالمي اصولوں اور انصاف كي كھلي خلاف ورزي نظر آتي ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ يو اين مبصر نے اپني رپورٹ ميں غيرقانوني اور غلط طريقوں سے ايران كے خلاف انساني حقوق كي خلاف ورزي كے دعوے كئے ہيں.
ترجمان دفتر خارجہ نے بتايا كہ اسلامي جمہوريہ ايران انساني حقوق كے قوانين كے حوالے سے قومي اور بين الاقوامي اصولوں اور فرائض سے مكمل طور واقف ہے اور اس حوالے سے اہم عالمي سطح پر اقدامات كر رہا ہے.
انہوں نے مزيد كہا كہ ايراني حكومت اقليت، شہريوں اور بالخصوص خواتين كے حقوق كے لئے جد و جہد كرتي ہے اور ہرگز ان كے حقوق پامال نہيں ہونے دے گي.
بہرام قاسمي نے كہا كہ بدقسمتي سے اقوام متحدہ كي خصوصي مبصر بعض مخصوص ممالك كي خواہشات كي بنياد پر ايران ميں انساني حقوق پر يكطرفہ رپورٹ پيش كي جس ميں كوئي حقيقت نہيں ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲