اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ گویا شام کے بچے اسی لیے پیدا ہوئے ہیں کہ وہ سمندروں کے کناروں پر تنہائی کے عالم میں اپنی جانیں دیں۔
چند ماہ قبل ترکی کے ساحل پر ’’آلان‘‘ کی لاش ملی جو اس ملک کے بچوں پر ہونے والے ظلم و ستم کی ایک مثال بن گئی آج پھر لبنان کے ساحل آلان کے جیسے ایک اور بچے کی لاش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آخر اس ملک میں اس ظلم و ستم کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟
لبنان کے فوجی اہلکاروں نے ۱۵ مارچ بدھ کی صبح العبدہ بندرگاہ کے نزدیک سمندر کے کنارے شام کے ننھے بچے ’’رسول ممدوح شحادہ‘‘ کی لاش پائی یہ ایسے حال میں ہے کہ اس بچے کے باپ نے پولیس اہلکاروں کو منگل کے روز اطلاع دی تھی کہ اس کا بچہ رود البارد کے قریب مہاجرین کے نصب شدہ خیموں سے غائب ہو گیا ہے اور احتمال پایا جاتا ہے کہ رود البارد نہر میں گر گیا ہو۔ اس نے پولیس سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اور اس کے دوست رسول شحادہ کو تلاش کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

آلان ترکی کے ساحل پر

رسول ممدوح شحادہ لبنان کے ساحل پر