اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عرب دنیا کے مشہور سیاسی تجزیہ نگار اور روزنامہ رائے الیوم کے مدیر اعلیٰ ’’عبدالباری اتوان ‘‘نے اپنے ایک مضمون میں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کے حالیہ عراق دورے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ ریاض خطے میں اس کی تنہائی کی پالیسی ختم کرنے اوربغداد کی مدد سے ایران تک پہنچنے کی کوشش کررہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ تہران تک پہنچے کیلئے عراق سب سے چھوٹا اوروسیع راستہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اس بات کو سمجھتا ہےکہ خطے کے مستقبل بالخصوص شامی تنازعے کے حل میں ایران اورعراق اہم رول ادا کرنے والے ہیں اس لئے سعودی عرب جانتا ہےکہ یمن دلدل سے اسے نجات دلانے کی واحد راہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات ہے اوراس سلسلے میں عراق ایک اچھا ثالث ہوسکتا ہے۔
انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کا بغداد دورہ سعودی عرب کی علاقائی پالیسی کی تصحیح ،تنہائی کو ختم کرنے کی کوشش اورریاض کی جارحانہ پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
26 مارچ 2015 سے سعودی عرب نے ایک عرب ملک ہونے کے ناطے اپنے غریب ہمسایہ ملک پر حملہ شروع کردیا اس فوجی حملے کے نتیجے میں اب تک 12 ہزار سے زائد یمنی شہری جن میں بچے ،بوڑھے اورخواتین بھی شامل ہیں شہید جبکہ دیگر دسیوں ہزار زخمی ہوچکے ہیں۔
سعودی عرب نے یمن کے مستفعی مٖفرور صدر ہادی منصور کی درخواست کو بہانہ بناکر ایک نام نہاد فوجی اتحاد تشکیل دیکر یمن کے خلاف فوجی کاروائی کا آغاز کیاتھا جو ابھی تک یمن میں لوگوں کا قتل عام اوراس ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲