25 فروری 2017 - 06:07
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر سے متعلق حقائق عالمی برادری کیلئے چشم کشا

مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہاکہ بھارتی فورسز نے گزشتہ 27سال کے دوران کشمیریوں کی جائز اور تسلیم شدہ حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانے کیلئے جوریکارڈ توڑ حقوق انسانی کی پامالیوں کی تاریخ رقم کی وہ عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ جموں کشمیرانجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغاسید حسن الموسوی الصفوی نے حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں 2016 کی ہمہ گیر احتجاجی تحریک کے دوران کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کے پامالیوں کے بدترین واقعات اور کھلی بربریت کے سانحات کو منظر عام پر لانے کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو عالمی برادری کیلئے چشم کشا قرار دیا۔

مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہاکہ بھارتی فورسز نے گزشتہ 27سال کے دوران کشمیریوں کی جائز اور تسلیم شدہ حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانے کیلئے جوریکارڈ توڑ حقوق انسانی کی پامالیوں کی تاریخ رقم کی وہ عالمی برادری سے پوشیدہ نہیں۔ البتہ 2016 کی ہمہ گیر عوامی تحریک کے خاتمے کیلئے جوانسانیت سوز حربے استعمال کئے گئے وہ آزادی ¿ اظہارکی بیخ کنی کی سیاہ تاریخ میں ایک اور باب کااضافہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 2016 کی احتجاجی تحریک کے دوران کشمیر کے اطراف و اکناف میں فورسز نے عوام پر جو مصائب اور مظالم ڈھائے ہیں اُس کی صحیح تصویر و تفصیل تب ہی دنیا کے سامنے آسکتی ہے جب ایمنسٹی انٹرنیشنل یا دیگر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو کشمیر کا تفصیلی دورہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اس موقعہ پر آغا صاحب نے ریاست اور بیرون ریاست جیلوں میں مقید کشمیری محبوسین کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کشمیری محبوسین کے تئیں حکومتی پالیسی کو بدترین سیاسی انتقام گیری سے تعبیر کیا۔ 2016 کی ہمہ گیر مزاحمتی احتجاجی تحریک کے دوران ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کئے گئے مظاہرین جن میں زیادہ تر کمسن طالبعلم شامل ہیں پر PSA عائد کرنے کی حکومتی کاروائی کو کشمیری قوم کے خلاف محدود نوعیت کی جنگ سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ مقید کمسن بچوں اور ضعیف العمر افراد پر عائد PSA کو عدلیہ کی طرف سے کالعدم قرار دینے اور رہائی کے واضح احکامات کے باوجود اُن کی رہائی میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ جس سے یہ حقیقت اور بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کشمیر میں ایجنسیوں کے سامنے عدلیہ کی کوئی بھی قدر و قیمت نہیں۔

آغا صاحب نے پپلز لیگ چیرمین غلام محمد خان سوپوری کی گرفتاری اور انہیں شدید علالت کی حالت میں حراست میں رکھنے کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایک ضعیف العمر حریت رہنما کو علالت کے باوجود تھانے میں رکھ کر اُس کی صحت و سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ آغاصاحب نے کشمیر یونیورسٹی کے طالبعلم عاقب میر کی پُر اسرار گمشدگی پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ سرکار مذکورہ طالبعلم کی بازیابی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲