15 جنوری 2017 - 16:35
ایٹمی مذاکرات کا مقصد امریکی جھوٹے الزامات کو بے نقاب کرنا تھا: عباس عراقچی

انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے سے پہلے مغربي طاقتيں اپنے مذموم پروپيگنڈے سے ايران كو ايك خطرہ تصور كرنے كي كوشش كرتے رہي تھيں ليكن ابھي انكے مطابق ايران تجارتي اور اقتصادي لحاظ سے ايك منافع بخش ملك ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے ایک اعلی عہدیدار نے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مشکل اور پیچیدہ جوہری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے دوران ہماری مذاکراتی ٹیم نے بھر پور انداز میں امریکی سیاسی چالوں اور سازشوں کا مقابلہ کیا ہے.

يہ بات سيد عباس عراقچي نے تہران ميں ايران اور مغربي طاقتوں كے درميان طے ہونے والے مشتركہ جوہري معاہدے كے ايك سال مكمل ہونے كي ايك تقريب كے دوران كہي.

انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے سے پہلے مغربي طاقتيں اپنے مذموم پروپيگنڈے سے ايران كو ايك خطرہ تصور كرنے كي كوشش كرتے رہي تھيں ليكن ابھي انكے مطابق ايران تجارتي اور اقتصادي لحاظ سے ايك منافع بخش ملك ہے.

انہوں نے خطے ميں امريكي دوغلي پاليسيوں كي طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ امريكا نے دنيا ميں يہ شور مچايا ہواتھا كہ ايران جوہري ہتيار بنانا چاہتا ہے اور ہمارے مذاكرات كا ايك مقصد امريكي جھوٹے الزامات كو بے نقاب كرنا اور دنيا كو ايران كےپرامن جوہري پروگرام سے آگاہ كرنا تھا.

انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے نفاذ كے بعد اب عالمي سطح پر ايران كي نئي تصوير دنيا كے سامنے پيش ہوئي ہے.

ايران كے نائب وزير خارجہ نے شام كے بحران كے حوالے سے كہا مغربي ممالك اقوام متحدہ كي سيكورٹي كونسل كے ذريعہ كئي بار ايران كو شام سميت خطے كے ديگر ممالك كي سيكورٹي كے لئے ايك بڑا خطرہ قرار ديتے تھے ايران كو دباؤ ميں لانے كي كوششيں كرتے تھے ليكن ابھي سيكورٹي كونسل كے وہي ركن ممالك ايران كي خطے ميں سيكورٹي صورت حال كے حوالے سے كردار كي حوصلہ افزائي كرتے ہيں.

انہوں نے ايران كے پرامن جوہري پروگرام كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ ہماري جوہري پروگرام كي سرگرمياں جاري ہيں اور ہم اپنے جوہري پاور پلانٹس كو جديد جوہري تنصيبات سے ليس كررہے ہيں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲