19 دسمبر 2016 - 21:39
دینی مدارس میں داخلے پر جوانوں کا اشتیاق، اسلامی انقلاب کی برکت سے ہے: آیت اللہ دری نجف آبادی

انہوں نے مزید کہا: حوزہ علمیہ خاتم الانبیاء میں یہ ظرفیت پائی جاتی ہے کہ غیر ایرانی اور اہل سنت کے طلاب کو بھی داخلہ دیا جائے اور یہ تمام چیزیں انقلاب اسلامی کی برکتوں سے ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے گذشتہ رات اراک کے مدرسہ خاتم الانبیاء میں وحدت اسلامی کانفرنس کے مہمانوں کے ساتھ ملاقات میں شہر اراک کی علمی قدامت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اراک شہر علمی حوالے سے درخشان ماضی کا حامل ہے اس شہر میں بزرگ علماء نے زندگیاں گزاری ہیں۔ شہر اراک کو طول تاریخ میں ’’عراق عجم‘‘ کا دار الحکومت کہا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا: اراک عشق اہل بیت(ع) کا دار الحکومت تھا، آیت اللہ حائری یزدی جنہوں نے حوزہ علمیہ قم کی بنیاد رکھی قم میں ہجرت سے پہلے اراک میں رہتے تھے امام خمینی نے بھی چار سال اراک میں آیت اللہ حائری کے پاس علم حاصل کیا۔ آیت اللہ اراکی بھی ۱۲ سال اس شہر میں آیت اللہ حائری کی شاگردی میں رہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے نائب سربراہ نے کہا: آیت اللہ گلپائیگانی، آیت اللہ خوانساری اور دیگر بہت سارے بزرگ علماء اراک میں آیت اللہ حائری کے شاگردوں میں شامل تھے۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے شہر اراک کے حوزہ ہائے علمیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس شہر میں برادران سے مخصوص چار مدرسے پائے جاتے ہیں اور پانچواں مدرسہ خاتم الانبیاء (ص) ہے جو ابھی پائہ تکمیل کو نہیں پہنچا ہے اور یہ مدرسہ تکمیل ہونے کے بعد ایک علمی مرکز میں تبدیل ہو جائے گا۔
انہوں نے مدرسہ خاتم الانبیاء کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے کہا: مدرسہ خاتم الانبیاء (ص) کا رقبہ دولاکھ مربع میٹر ہے جس میں سے ۳۰ ہزار مربع میٹر پر عمارت کھڑی کی گئی ہے کہ جس میں اساتید کے لیے ۴۸ اور طلاب کے لیے ۱۰۸ رہائشگاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مدرسہ کے ہاوسٹل میں ۸۰۰ طالبعلموں کو سکونت دی جا سکتی ہے۔ نیز مدرسہ خاتم الانبیاء میں لائبریری کے علاوہ دیگر تمام ضروری سہولیات موجود ہیں۔
آیت اللہ نجف آبادی نے شہر اراک میں خواھران کے مدارس کی تعداد کو تیس بتاتے ہوئے کہا کہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس شہر میں اتنے دینی مدرسے قائم ہیں جن میں دینی تعلیم دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: حوزہ علمیہ خاتم الانبیاء میں یہ ظرفیت پائی جاتی ہے کہ غیر ایرانی اور اہل سنت کے طلاب کو بھی داخلہ دیا جائے اور یہ تمام چیزیں انقلاب اسلامی کی برکتوں سے ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی اعلی کونسل کے سربراہ نے آخر میں کہا: خداوند عالم کے لطف و کرم سے شہر اراک میں دینی مدارس کے اندر وسعت پیدا ہو رہی ہے اور نسل جوان پورے ذوق و شوق کے ساتھ دینی مدارس میں داخلہ لیتے ہیں اور علوم آل محمد (ص) سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲