اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر مسلسل ایک محاذ آرائی کا ماحول ہے اور خارجہ امور کے ماہرین بھی یہی کہتے آ رہے ہیں کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، اُس وقت تک پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے، جس پر دونوں ممالک "سمجھوتہ" کرنے کیلئے تیار نہیں ہوسکتے۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ اور پاکستان اِسے اپنی شہ رگ قرار دیتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر وہ معاملہ ہے، جس میں بھارت اور پاکستان کے سینگ بُری طرح پھنسے ہوئے ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اقوام متحدہ نے اس مسئلہ کا یہ حل نکالا تھا کہ بھارت اور پاکستان اس مسئلے پر لڑنے کے بجائے کشمیریوں سے پوچھ لیں کہ وہ کس طرف جانا چاہتے ہیں۔ کشمیریوں نے دوٹوک انداز میں فیصلہ پاکستان کے حق میں دے دیا، لیکن یہ بھارت کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔ بھارت نے بارہا پاکستان پر الزام تراشی کی کہ پاکستان بھارت میں مداخلت کر رہا ہے، یہ بھی کہا گیا کہ بھارت میں ہونیوالی دہشتگردی کی وارداتوں میں بھی پاکستان ملوث ہے، لیکن بھارت اِن الزامات کے ثبوت دینے سے قاصر رہا ہے۔ ممبئی اٹیک ہو یا پٹھان کوٹ حملہ، نام ہمیشہ پاکستان کا نکلا ہے۔ اس کے برعکس بھارت نے پاکستان میں باقاعدہ مداخلت کی، بلوچستان کا معاملہ ہو یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں ہونیوالی دہشتگردی، تانے بانے بھارت سے ہی ملتے ہیں۔
بلوچستان سے پکڑا جانیوالا بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو ابھی تک پاکستان کے پاس ہے۔ جس کو بھارت نے نہیں جھٹلایا جبکہ بھارت میں ہونیوالی دہشتگردی میں بھارت میں چلنے والی علیحدگی پسند تنظیمیں ملوث ہوتی ہیں، بھارت کو اقتصادی راہداری منصوبے کی بھی اچھی خاصی تکلیف ہے۔ بھارت نے اس کو بھی ناکام بنانے کی کوشش کی، لیکن اُسے اِس میں اِس لئے کامیابی نہیں ملی کیونکہ اس کی ذمہ داری پاک فوج نے لی ہے۔ اس سے قبل بھارت کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ناکام بنا چکا ہے۔ اب بھارت نے ایک اور پتہ کھیلا ہے اور اسرائیلی صدر کو بھارت کا دورہ کرایا ہے اور اسرائیلی صدر ابھی تک بھارت میں ہی ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی اپنا پتہ ظاہر کر دیا ہے اور ترک صدر رجب طیب اردوان کو دعوت دے ڈالی اور اس دورے سے بھارت کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر آپ اپنے دوستوں کو بُلا کر دفاعی معاہدے کرسکتے ہیں، تو ہم بھی "صاحبِ دوست" ہیں اور ترک صدر کا دورہ بھارت کو بھرپور جواب ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں واضح انداز میں بھارت کو للکارا اور کشمیر میں بھارتی مظالم کی کھل کر مذمت کی۔ ترک صدر نے نہ صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کیا بلکہ ان کی تحریک آزادی کی حمایت بھی کی۔ ترک صدر نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ترک صدر نے مغرب کو بھی واضح پیغام دیا ہے۔ رجب طیب اردوان نے داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کو بھی اسلام دشمن قرار دیا اور کہا کہ ان دہشتگرد تنظیموں نے اسلام کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے لیکن ہم اسلام کے پیروکار ہیں، اسلام امن، سلامتی اور بھائی چارے کا مذہب ہے، ہم اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کو دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اپنے خطاب میں ترک صدر نے مغرب کو خوب لتاڑا اور کہا کہ داعش اور القاعدہ کو اسلحہ کی فراہمی مغرب سے ہوتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں دنیا واضح طور پر 2 بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اقتدار میں آنا، شام میں دہشتگردوں کی ناکامی، اسرائیل کا بھارت کے مزید قریب آ جانا، سعودی عرب کی امریکہ کیساتھ کشیدگی، عراق و افغانستان کی حالت اور مشرق وسطٰی کی موجودہ صورتحال اس جانب واضح اشارہ ہے کہ دنیا 2 بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی "را" اور اسرائیلی "موساد" کی کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اب اسرائیلی صدر نے اس حوالے سے مزید معاہدے کئے ہیں۔ برطانوی خفیہ ایجنسی "ایم آئی 6" بھی آج کل کچھ زیادہ ہی فعال ہے۔ یہ وہ اشارے ہیں جو دنیا میں ایک تبدیلی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ایران کیساتھ بھی تعلقات بنتے بنتے بگڑ گئے ہیں اور "جیسے تھے" کی پوزیشن میں واپس آچکے ہیں۔ دنیا میں تیزی سے ہوئی اس تبدیلی میں پاکستان کی قیادت کو آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی اور مستبقل کے تعین کیلئے دُور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے اب تک کی صورتحال تسلی بخش ہے۔ پاکستان میں آرمی چیف کی تبدیلی کے بعد کا منظر کیا بنتا ہے، یہ آنیوالا وقت بتائے گا لیکن لندن سے "ڈکٹیشن" لے کر آنے والا ڈاکٹر طاہرالقادری کہیں پاکستانی سیاست میں دوبارہ کوئی ہلچل نہ مچا دے، اس حوالے سے بھی پاکستانی اداروں کو آنکھیں اور کان کھلے رکھنا ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169