اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر پاک ترک اسکولوں کی بندش اور اساتذہ کی بے دخلی کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین صدر رجب طیب اردوغان کے دورہ اسلام آباد کے خلاف بھی نعرے لگارہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے صدر کے حکم پر اسکولوں کو بند کرنا اور اساتذہ کو بے دخل کرنا انصاف کے منافی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان نے ترک صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر گولن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے پاک ترک اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند اور ان میں کام کرنے والے ترک اساتذہ کو تین دن کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب پاک ترک اساتذہ نے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت نے ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے نمٹا دی ہے کہ وزارت داخلہ نے اساتذہ کو ملک چھوڑنے کے لیے بہت کم وقت دیا ہے۔ قابل ذکرہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اٹھائیس ایسے اسکول قائم ہیں جنکا تعلق امریکہ میں مقیم اردوغان مخالف رہنما فتح اللہ گولن کی تنظیم ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد میں پاکستان سے گولن فاؤئڈیشن کے تحت چلنے والے تمام اسکول بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترک حکومت فتح اللہ گولن کو ملک میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169