اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تہران کے خطیب جمعہ آیۃ اللہ احمد خاتمی نے نماز جمعے کے خطبے میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے، کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات علاقے کی قوموں کے تعلق سے اس ملک کی یکطرفہ، ہٹ دھرمی اور مداخلت پسندی پر مبنی پالیسیوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں لا سکتے ، کہا کہ ملت ایران ہرگز امریکہ میں بر سر اقتدار آنے والی حکومتوں کے مطالبات قبول نہیں کرے گی -
تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کے خلاف دھمکی آمیز اور جارحانہ پالیسیاں اختیار کرنے کی بابت امریکہ کے منتخب صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا-آیۃ اللہ خاتمی نے اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ اقوام عالم اپنے ملکوں میں امریکہ کی فوجی مداخلتوں اور مہم جویانہ پالیسیوں سے تنگ آچکی ہیں ، امریکہ کے منتخب صدر کو نصیحت کی کہ بہتر یہی ہے کہ ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کے بجائے ، اپنے ملک کے عوام کی مشکلات کو حل کرنے پر توجہ دیں-
تہران کے خطیب جمعہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امریکہ کے صدارتی امیدوار کے اعترافات کی بنیاد پر یہ ملک بھاری قرضوں کے بوجھ کے باعث دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، کہا کہ اس ملک میں بدامنی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور سالانہ متعدد افراد خاص طور پر سیاہ فام باشندے ہتھیاروں کے ذریعے تشدد کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں-
آیت اللہ خاتمی نے علاقے کے بحرانوں کے حل میں مدد کے لئے امریکہ سے بعض ملکوں کی درخواست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنی مالی اور سیکورٹی کی مشکلات کو حل کرنے پر قادر نہیں ہے وہ ہرگز علاقے کی سلامتی میں کوئی مدد نہیں کرسکتا -تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ داعش دہشت گرد گروہ امریکہ کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد و حمایت سے علاقے میں وجود میں آیا اور اسے وجود میں لانے میں عوام کے ٹیکس کے پیسے خرچ کئے گئے ہیں -
آیۃ اللہ خاتمی نے کہا کہ اگر امریکہ کے نو منتخب صدر بھی گذشتہ سربراہوں کی مانند سامراجی رویہ اختیار کریں گے تو بلاشبہ وہ بھی اقوام عالم کی نظر میں قابل نفرت قرار پائیں گے-تہران کے خطیب جمعہ نے عراق کے شہر موصل کو داعش کے وجود سے پاک کرنے کی کارروائیوں میں عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کو مسلسل حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فوج کو ان کارروائیوں میں کسی بھی ملک کی مدد کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی امریکہ اور بعض دیگر علاقائی ممالک نے بلاسبب اپنے فوجی موصل کی جانب روانہ کئے ہیں کہ جن کی کوئی ضرورت نہیں ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲