28 اکتوبر 2016 - 17:31
آغا حسن مسلسل خانہ نظربند ،16 ویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ کی پیشوائی سے محروم

انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے آغا صاحب کی مسلسل خانہ نظر بندی اور موصوف کو بحیثیت امام جمعہ مرکزی امام باڑہ بڈگام متواتر نماز جمعہ کی پیشوائی سے روکنے کی حکومتی کاروائی کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین کی ناقابل برداشت کاروائی قرار دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی مسلسل خانہ نظر بندی کے باعث 16 ویں جمعہ کو بھی مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی نہ کرسکے۔

انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے آغا صاحب کی مسلسل خانہ نظر بندی اور موصوف کو بحیثیت امام جمعہ مرکزی امام باڑہ بڈگام متواتر نماز جمعہ کی پیشوائی سے روکنے کی حکومتی کاروائی کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین کی ناقابل برداشت کاروائی قرار دیا۔ تنظیم کے خانہ نظر بند سربراہ آغا سیدحسن الموسوی الصفوی نے وادی کے کئی جمعہ اجتماعات کے مراکز بالخصوص تاریخی جامع مسجد سرینگر میں 16 ویں جمعہ کو بھی نماز جمعہ پر قدغن کو ملت کشمیر کی مذہبی آزادی سلب کرنے کی سیاہ مثال سے تعبیر کرتے ہوئے ارباب اختیار پر ہندو فرقہ پرست قوتوں کے ایجنڈہ کی آبیاری کا الزام عائد کیا۔

درجنوں ائمہ مساجد اور خطیب حضرات کی نظر بندیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ ملت کشمیر کے دینی جذبات کو مسلسل مجروح کرکے ارباب اقتدار ہندو فرقہ پرستوں کا آشیرواد حاصل کرنے کی روش پر گامزن ہے۔آغا صاحب نے جامع مسجد چلو کال کو روکنے کیلئے سرکاری قدغن ، کرفیو اور شہر سرینگر کی ناکہ بندیوں کو حکومت کی بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ایک قدیم اور تاریخی دینی مرکز جامع مسجد سرینگر کو ساڑھے تین ماہ سے مقفل کرکے ریاستی انتظامیہ دینی معاملات میں مداخلت کی ایک سیاہ تاریخ رقم کررہی ہے۔

مسلمانان کشمیر اُس پر خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے ۔تاریخی جامع مسجد سرینگر کے مسلسل محاصرے اور ائمہ جمعہ و خطیبان مسجد اور قائدین حریت و نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر نظر بندیوں کے خلاف بطور احتجاج مرکزی امام باڑہ بڈگام سے آغا سید عقیل الموسوی کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین بھارتی جبروبربریت کے خلاف اور آزادی و اسلام کے حق میں زوردار نعرہ بازی کی۔ریاستی انتظامیہ ایسی مذموم کاروائیوں سے اسلامیانِ کشمیر کے دینی غیرت کو للکار رہی ہے۔

حکومتی قدغن اور سخت ترین کرفیو کے باوجودآرہ بل شالیمار سرینگر میں حاجی علی محمد خان کے دولت خانہ سے امام باڑہ گلشن علی شالیمار تک سیدنا حضرت امام زین العابدینؑ کے یوم شہادت کے موقعہ پر جلوس ذوالجناح کی برآمدگی کو ممکن بنانے کیلئے جان جونکھوں میں ڈال کر جلوس میں شرکت کرنے والے عزاداروں کے جذبہ حسینیتؑ کو خراج پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے جلوس کیلئے گرانقدر خدمات انجام دینے والے اہلیان شالیمار ، ادارہ اوقاف اثنا عشریہ گلشن علی شالیمار بالخصوص علاقے کی سنی برادری کا پُرخلوص شکریہ ادا کیا جنہوں نے اہلبیت نبوی سے اپنی والہانہ عقیدت کے جذبہ کے تحت خدمات انجام دیکر نہ صرف اتحاد و اخوت اسلامی کا شاندار مظاہرہ کیابلکہ اپنے دروازے عزاداروں کیلئے کھلے رکھے اور بذات خود جلوس میں شرکت کی۔

آغا صاحب نے جلوس کی برآمدگی کیلئے کلیدی کردار ادا کرنے والے ان معززین جن میں الحاج علی محمد خان ، فیروز احمد خان، سید فدا حسین زوار وغیرہ کا پُرخلوص شکریہ ادا کیا جنہیں مہاجر ہونے کا طعنہ دیکر اس جذبہ ایثار وخدمت سے دستبردار ہونے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے۔ حسینیتؑ کے پروانوں نے حسینی جذبے اور یذیدی خصائل والوں نے یذیدیت کا مظاہرہ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲