اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بحران شام کے سیاسی حل اور تکفیری گروہوں کے مقابلے پر زور دیا ہے۔
یہ بات انہوں نے ایران، روس اور شام کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی غرض سے ماسکو پہنچنے کے فورا بعد صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کہی۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ بعض ممالک مسلسل شام میں جنگ اور بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ اس بحران کا حل سیاسی ہے اور تکفیری گروہوں کے خلاف کارروائی میں مضمر ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ تہران شروع ہی سے شام میں ہمہ گیر جنگ بندی پر زور دیتا آیا ہے تاکہ انسان دوستانہ امداد کا دائرہ بڑھایا اور بحران کے سیاسی حل کا راستہ ہموار کیا جائے۔
وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ، شام میں امن اور تکفیری گروہوں کے خلاف آپریشن کے خواہاں ملکوں کو پوری ہم آہنگی کے ساتھ اس ملک میں جنگ بند کرانے کے لیے پرامن طریقوں سے کام لینا چاہیے اور ماسکو اجلاس کا اہم ترین مقصد بھی یہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، ایران روس اور شام کے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد خطے کی تازہ ترین صورتحال اور شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے طریقوں کا جائزہ لینا نیز اس بارے میں تنیوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ کرنا ہے۔
روس اور ایران شروع سے آج تک بحران شام کو شامی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیتے چلے آئے ہیں۔
روس اور ایران کا موقف ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی کے لیے عالمی اقدامات عمل میں لائے جائیں، ان کی مالی، اسلحہ جاتی اور انٹیلی جینس حمایت بند کی جائے جبکہ شام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ شامی عوام پر چھوڑ دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲