اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعدالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعشی عناصر، موصل کی آزادی کے لیے جاری عراقی فوجی آپریشن کے دوران ، عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔
عراقی فوج اور عوامی رضاکاروں کے دستے تکفیری داعشی دہشت گرد گروہ داعش کے آخری گڑھ موصل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں ایسی رپورٹیں موصول ہوئیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ داعشی دہشت گردوں نے عام شہریوں کی بڑی تعداد کو موصل میں اپنے اڈوں کے قریب قید کر رکھا ہے تاکہ انہیں، عراقی فوج کی پیشقدمی روکنے کی غرض سے بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جاسکے۔بیان میں آیا ہے کہ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ داعشی عناصر نہ صرف یہ ان لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کریں گے بلکہ ہوسکتا ہے ان کا قتل عام کردیں۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایسی رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں کہ داعشی دہشت گردوں نے موصل کے نواحی دیہات سے دو سو خاندانوں کو جبری طور پر موصل شہر کے اندر لے گئے ہیں۔
جبکہ نجیفہ گاؤں سے بھی ساڑھے تین سو خاندانوں کونکال کر موصل شہر کے اندر جانے پر مجبور کردیا کیا ہے۔
زید رعدالحسن کےمطابق، داعشی دہشت گردوں کے اقدامات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ عام شہریوں کو عراقی فوج کے کنٹرول والے علاقوں کی جانب جانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169