اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سری نگر میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مسلح افراد نے منگل کی دوپہر شوپیاں میں نیم فوجی دستے سی آر پی ایف کے گشتی دستے پرگرینیڈ سے حملہ کیا لیکن نشانہ خطا ہو جانے کے باعث وہ گرینیڈ ایک مجمع میں پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی اور سات عام شہری زخمی ہوئے- زخمیوں کو شوپیاں کے ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے - حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لئے کارروائی شروع کر دی گئی ہے-
یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب وادی کشمیر کے علاقے پمپور میں ایک سرکاری عمارت میں مسلح افراد کو چھپے ہوئے چوبیس گھنٹے سے بھی زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور فوج اور مسلح افراد کے درمیان معرکہ جاری ہے- مذکورہ عمارت اور آس پاس کے علاقے سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں-
فوجی اہلکاروں نے عمارت کو منہدم کرنے کے لئے راکٹوں سے شدید حملہ کیا ہے لیکن مسلح افراد بدستور عمارت میں روپوش ہیں اور فائرنگ کر رہے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مسلح افراد کے ہتھیار اور گولہ بارود ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں-
ذرائع کا کہنا ہے کہ پمپور میں یہ سرکاری عمارت پچھلے تین مہینے سے خالی تھی جو نوجوانوں کی ووکیشنل ٹریننگ کے لئے استعمال ہوتی تھی لیکن وادی میں گذشتہ تین مہینے سے جاری مظاہروں اور ہڑتال کے باعث اس انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اسی انسٹی ٹیوٹ پر گذشتہ فروری میں بھی بڑا حملہ ہوا تھا جس میں تین مسلح افراد اور پانچ ہندوستانی فوجی مارے گئے تھے- حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے خالی ہونے کے سبب اس بات کا امکان نہیں ہے کہ مسلح افراد نے کسی کو یرغمال بنایا ہو-
اس درمیان وادی کے مختلف علاقوں میں منگل کو بھی پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں - سری نگر سے ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ سری نگر کے پائین شہر کے کئی علاقوں میں نومحرم کے جلوسہائے عزا برآمد کئے گئے- پولیس نے ان جلوسوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن ماتمداروں اور عزاداروں نے نوحہ و ماتم کا سلسلہ جاری رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲