22 ستمبر 2016 - 12:33
جوہری معاہدے کو امریکہ کے صدارتی امیدوار نظر انداز نہیں کر سکتے/ شام کا مسئلہ سیاسی طریقے سے حل ہونا چاہیے

ایرانی صدر نے شام کی سالمیت اور شامی عوام کی رائے کے احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدہ ایسا معاملہ نہیں جس کو امریکہ کے صدارتی امیدوار نظرانداز کرسکیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے شام کی سالمیت اور شامی عوام کی رائے کے احترام کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری معاہدہ ایسا معاملہ نہیں جس کو امریکہ کے صدارتی امیدوار نظرانداز کرسکیں.
ان خیالات کا اظہار اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت 'حسن روحانی' نے نیو یارک کے دورے کے موقع پر امریکی نیوز چینل 'این بی سی' کو خصوص انٹریو دیتے ہوئے کیا.
انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے پر ایک بنیادی موضوع پر توجہ مرکوز رہنی چاہئے کہ اس ملک کے بحران کو فوجی طریقے سے نہیں بلکہ سیاسی اور صرف سیاسی طریقوں سے حل کیا جانا چاہئے.
شام کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شام کی سالمیت کا احترام کرنا چاہئے اور جہاں تک حکومت کے مستقبل کے بارے میں بات ہے اس پر شامی عوام ہی فیصلہ کرنے کا حق دار ہیں.
صدر روحانی نے امریکی وزیرخارجہ جان کری کی جانب سے بده کے روز دیے جانے والے بیان جس کے مطابق شام کے شمالی علاقوں میں شامی اور روسی طیاروں کی پروازوں کو بند کیا جائے، پر رد عمل کا اظہا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بندش کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اس اقدام سے داعش اور النصرہ فرنٹ کے دہشتگردوں کو فائدہ ملے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دو دہشتگرد تنظیموں پر دباؤ بڑهانا ہوگا کیونکہ پروازوں کی بندش سے سو فیصد دہشتگردوں کو اپنے عزائم میں کامیابی ملے گی.
شامی صورتحال پر امریکی رویے پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ امریکی طیاروں نے گزشتہ ہفتے کے روز شام کی حکومت پوزیشن پر بمباری کیا اور اس کے بعد اس حملے کو ایک غلطی قرار دیا جبکہ اس فضائی حملے میں درجنوں حکومتی فورسز جاں بحق ہوگئے.
ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کے حوالے سے صدر روحانی نے امریکی وزارت خزانہ کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا.
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی وزارت خزانہ نے ایران اور غیرملکی اداروں کے درمیان بینکنگ معاملات اور مالیاتی تعاون کو مشکلات کا شکار کیا ہے.
جوہری معاہدے پر امریکہ کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے نقطہ نظر کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ کوئی بهی ملک یا اس کا صدر جوہری معاہدے کو تبدیل نہیں کرسکتا کیونکہ اس معاہدے کو طے پانے کے لئے مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے اپنا کردار ادا کیا تهے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بهی اس پر نگرانی کر رہی ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

لیبلز