22 ستمبر 2016 - 08:16
صدر مملکت حسن روحانی کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت نے عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات میں عراق میں مکمل امن و سلامتی کے قیام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تہران کی جانب سے عراقی حکومت، فوج اور رضاکار فورس کی حمایت کا اصل مقصد، اس ملک کے عوام کو داعش کے دہشت گردوں کے چنگل سے آزاد کرانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ خاص طور پر گزشتہ مہینوں کے نشیب و فراز میں عراقی عوام اور حکومت کے ساتھ رہا ہے اور وہ آخر تک عراقی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔

عراق کے وزیراعظم نے بھی اس ملاقات میں تہران اور بغداد کے تعلقات کو اسٹریٹیجک اور مشترکہ اور علاقائی مفادات کا حامل بتایا۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق کے ساتھ ایران کے تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد گروہ عراق میں تقریبا ختم ہونے کے مرحلے میں ہے۔

درایں اثنا صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں سویڈن کے وزیراعظم اور بلغاریہ کے صدر سے بھی ملاقات کی۔

صدر مملکت نے سویڈن کے وزیراعظم اسٹیفن لوون سے ملاقات میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں شراکت کے لیے تیار ہے اور دونوں ملکوں کے نجی شعبوں کو ایک دوسرے کی توانائیوں سے آگاہ کرنا چاہیے اور شراکت اور زیادہ تعاون کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

سویڈن کے وزیراعظم نے بھی اس ملاقات میں یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ وہ ایک بڑے اقتصادی وفد کے ساتھ آئندہ مہینوں کے دوران تہران کا دورہ کریں گے، کہا کہ سویڈن ایران کے ساتھ تمام شعبوں خاص طور پر اقتصادی شعبے میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

صدر مملکت نے اسی طرح بلغاریہ کے صدر روسن پلونلیف سے ملاقات میں بلغاریہ کو یورپ تک پہنچنے کے لیے ایران کا ایک دروازہ قرار دیا اور کہا کہ علاقائی تعاون اور پروگراموں سے ایران کا ریلوے نیٹ ورک مشرقی ایشیا سے لے کر جارجیا کی بندرگاہوں تک اور وہاں سے بحیرہ اسود کے ذریعے بلغاریہ کی بندرگاہوں سے جڑ جائے گا۔

بلغاریہ کے صدر نے بھی اس ملاقات میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کا ملک تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتا ہے، مفاہمت، بردباری، امن اور دوستی کو دونوں ملکوں کی مشترکہ پالیسی قرار دیا اور کہا کہ بلغاریہ ایک دوست ملک کی حیثیت سے یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات کے لیے ایک مضبوط بنیاد بننا چاہتا ہے۔

صدر مملکت نے جنرل اسمبلی کے اکہترویں اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے بھی ملاقات کی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ سب کی، خاص طور پر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی حفاظت کریں اور اسے مضبوط بنائیں۔ یہ امر اس بات کا متقاضی ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس سو اکتیس پر عمل درآمد کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹیں حقیقت پسندانہ، خودمختار اور تعاون کو مضبوط بنانے کا باعث ہوں۔

صدر مملکت نے اس ملاقات میں مشرق وسطی خاص طور پر شام اور یمن کے اہم مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن پر فوجی حملوں اور جنگی جرائم کا جاری رہنا بہت ہی تشویش ناک ہے اور یمن میں تمام بین الاقوامی کنونشنوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

انھوں نے شام میں اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے بارے میں تہران کی آمادگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اصول ملکوں کی حاکمیت اور ارضی سالمیت کا تحفظ ہے اور موجودہ حالات میں انسانی مسائل بھی شام میں اولین ترجیح رکھتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس ملاقات میں شام اور یمن کے بحرانوں کی پائیدار راہ حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور ان بحرانوں کے حل میں اسلامی جمہوریہ ایران سے زیادہ حمایت اور کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اکہترویں اجلاس کے موقع پر ناروے کی وزیراعظم ارنا سالبرگ سے بھی ملاقات کی۔ صدر مملکت نے اس ملاقات میں کہا کہ ظالمانہ پابندیوں نے ایران اور ناروے کے تعلقات پر اثرات مرتب کر کے انھیں پیچھے دھکیل دیا تھا اور مشترکہ جامع ایکشن پلان دونوں ملکوں کے تعلقات میں پائی جانے والی کمیوں کے ازالے کا مناسب موقع ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران توانائی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں ناروے کی کمپنیوں کے تعاون اور سرگرمیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ انھوں نے اس ملاقات میں اوسلو کے ساتھ تہران کے بینکنگ، علم و سائنس، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون اور تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

ناروے کی وزیراعظم ارنا سالبرگ نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان نے ایک نیا دروازہ کھولا ہے اور اس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے مناسب موقع پیدا ہو گیا اور اوسلو اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169