13 ستمبر 2016 - 06:15
الکعبی: سعودی اور صہیونی ریاستیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں / دو قبلے در ریاستوں کے زير قبضہ

سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک نے آل سعود اور صہیونی ریاست کی باہمی مشابہت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: سعودی اور صہیونی ریاستیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور ان دونوں نے مسلمانوں کے دو قبلوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک، شیخ اکرم الکعبی نے تہران یونیورسٹی میں نماز عید الضحی سے قبل اپنے خطاب میں سعودی اور صہیونی ریاستوں کو مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا: بدقسمتی سے کعبہ شریف اس وقت جاہل سعودی ریاست کے زیر قبضہ ہے، جس طرح کہ قبلہ اول پر صہیونی ریاست کا قبضہ ہے۔ 

حجت‌الاسلام والمسلمین شیخ اکرم الکعبی نے کہا کہ یہ دو ریاستیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اور سعودی ریاست برطانوی قابضوں کے زير نگرانی اور ان کی براہ راست سرپرستی میں قائم ہوئی اور اس ریاست نے اپنی بنیادیں "قتل عام، ظلم و ستم، اسلامی مقدسات ـ بالخصوص جنۃالبقیع اور کربلائےمعلٰی ـ کی توہین و بےحرمتی پر استوار کردی۔
انھوں نے کہا: آج جب سعودی حکومت نے مسلمانوں کے فریضۂ حج کی ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالی ہیں، تو ہم پر واجب ہے کہ کعبہ شریف کو آزاد کرادیں اور اسلامی ممالک کے ایک مجموعے کو اس کے انتظام کی ذمہ داری سونپ لیں، جیسا کہ فلسطین کی آزادی ہم پر واجب ہے، تا کہ ہم دنوں قبلوں کو مسلمانوں کی آغوش میں پلٹا دیں اوراللہ کا دین تمام رسوم روایات اور مذاہب سے برتر و بالاتر رہے۔
انھوں نے کہا: ملتِ ایران وہی قوم ہے جس نے اپنی عظیم حیثیت کو تاریخ میں ثبت کرد یا ہے اور اس نے اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے۔
انھوں نے کہا: انسانی تاریخ میں، کئی انقلابات رونما ہوئے جنہوں نے ملتوں کی حیات کا رخ بدل دیا، لیکن اسلامی انقلاب ـ جس کی قیادت حضرت آیت اللہ العظمی روح اللہ موسوی خمینی (قدس سرہ الشریف) نے کی ـ تمام انقلابات سے عظیم تر اور سب سے زيادہ مؤثر تھا۔
عراقی رضاکار افواج [الحشد الشعبی] کے اس سنیئر کمانڈر نے کہا: یہ انقلاب مظلوم اور مستضعف اقوام کا بہترین حامی اور مددگار ہے اور اسی نے اقوام میں جدوجہد، مزاحمت اور استقامت کی روح کو تقویت پہنچائی۔
شیخ اکرم الکعبی نے عراق کے مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق ماضی میں صدام کی جابر افواج کے ہاتھوں اسیر تھا اور عرب اور مغربی ممالک صدام کی پشت پناہی کررہے تھے؛ ان ایام میں جب جنگوں اور بحرانوں میں شدت آئی تو اسلامی جمہوریہ ایران مظلوم اقوام کا ملجا و مأویٰ تھا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے یہ حمایت آج بھی جاری ہے۔
انھوں نے مزيد کہا: ان برسوں کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران نے مہاجرین اور پناہ گزینوں کو پناہ دی، صدام کی اسلام دشمن بعث حکومت کے مقابلے میں عراقی مجاہدین کو اپنے تجربات منتقل کرنے میں سستی نہیں برتی اور یہ سب اسلامی جمہوریہ کی پشت پناہی کے مصادیق ہیں اور اس پشت پناہی نے رو بہ زوال صدامی حکومت کی قوت کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سیکریٹری جنرل النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک نے ڈکٹیٹر صدام کے زوال کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے عراق کو فراہم کردہ امداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کا انسان دوستی کے جذبے پر استوار کردار جو تاریخ میں ثبت ہوا، صدام کے زوال کے بعد بھی جاری رہا یہاں تک کہ عراق اور ملت عراق کی سلامتی ایران اور ملت ایرانی کی سلامتی کا حصہ بن گئی۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا: اسلامی جمہوریہ اسلامی مزاحمت محاذ عراق کی یکجہتی اور قومی و ملکی سالمیت کی بہترین حامی ہے، اور ان حمایتوں کے نتیجے میں دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ جنگ میں النُجَباء اسلامی مزاحمت تحریک سمیت محاذ مزاحمت میں شامل تنظیموں اور تحریکوں کی کامیاب کاروائیاں انجام کو پہنچیں۔
شیخ اکرم الکعبی نے مزید کہا: مزاحمت محاذ کے مجاہدین کو فراہم کردہ ایران کی مالی، عسکری اور مشاورتی مدد و حمایت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری عظیم کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
عراقی رضاکار افواج [الحشد الشعبی] کے اس سنیئر کمانڈر نے کہا: اسلامی جمہوریہ اور ایرانی قوم دنیا کی واحد حکومت اور واحد قوم تھی جس نے عراق، فلسطین، شام اور لبنان میں قابل قدر و باعث فخر تاریخی موقف اختیار کیا۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا: خطے میں مستکبرین اور ان کے کٹھ پتلیوں کی تمام تر سازشیں ناکام ہوچکی ہیں؛ وہ اس خطے میں محاذ مزاحمت کی کمر توڑ کر رکھنا چاہتے تھے اور عالم اسلام اور دنیائے عرب کو چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ساتھ لڑا کر تقسیم در تقسیم کرنا چاہتے تھے تاکہ صہیونی ریاست کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے اور اپنے لئے بھی اس علاقے میں ـ جس کو انھوں نے عظیم تر مشرق وسطی کا نام دیا تھا ـ مضبوط قدم جمانے کا امکان فراہم کریں۔
انھوں نے آخر میں محاذ مزاحمت میں شامل مختلف ممالک کے مجاہدین کے درمیان مثالی اتحاد و یکجہتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شام اور عراق میں جاری عزت و شرافت کے میدان میں، ہمارے شہداء کا خون ایرانی کمانڈروں اور مجاہدین کے خون میں مخلوط ہوچکا ہے۔

.......

/169