10 اگست 2016 - 11:57
کشمیر کی صورتحال پر نریندر مودی نے طویل خاموشی توڑ دی

شہری ہلاکتوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں چند عناصر امن و امان میں رخنہ ڈال کر تعمیر و ترقی میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں جبکہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، کتاب، بیٹ، بال اور دل میں خواب ہونے چاہیے تھے، اُن ہاتھوں میں بدقسمتی سے پتھر تھما دئیے جاتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے طویل عرصے کے بعد بھارتی وزیراعظم ہند نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے ذریعے کشمیر میں تمام معاملات کا حل تلاش کیا جائے گا جبکہ امن قائم کرنے کیلئے مرکز ہر سطح پر تعاون فراہم کرے گا۔ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش قدم پر چلنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو آزادی ہر ہندوستانی کی ہے وہی آزادی کشمیر کیلئے بھی ہے جبکہ ہر بھارتی کشمیر کے ساتھ بے پناہ محبت کرتا ہے۔ شہری ہلاکتوں پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں چند عناصر امن و امان میں رخنہ ڈال کر تعمیر و ترقی میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں جبکہ جن نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، کتاب، بیٹ، بال اور دل میں خواب ہونے چاہیے تھے، اُن ہاتھوں میں بدقسمتی سے پتھر تھما دئیے جاتے ہیں۔ بھارت کے مجاہد آزادی چندر شیکھر آزاد کی سالگرہ کے حوالے سے بھوپال میں منعقدہ ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر میں ایک ماہ سے جاری کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کشمیر میں تمام معاملات کا حل ترقی کے ذریعے تلاش کرے گی۔ درایں اثںا مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کشمیر ریمارکس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی سے تمام معاملات حل نہیں ہونگے۔ عمر عبداللہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ تمام معاملات کا حل ترقی نے نہیں نکالا جاسکتا ہے۔ ادھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین نے اسے غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کروڑوں کشمیریوں کی آواز ہے کہ ہمیں آزادی چاہئے اور اسی حق کیلئے آج تک یہاں لاکھوں لوگوں نے قربانیاں پیش کی ہیں لیکن بھارتی حکمرانوں کی پرانی روش رہی ہے کہ وہ کشمیریوں کی غالب اکثریت کو ’’چند گمراہ عناصر‘‘ کا نام دے حقیقت کی نفی کرتے رہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔

/169