اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہ چابہار افغانستان کیلئے نہایت اہم اور شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور ایران،افغانستان اور بھارت کے درمیان چابہار تعاون معاہدے پر جلد دستخط ہوں گے.
ان خيالات كا اظہار اسلام آباد ميں متعين افغان سفير 'حضرت عمر ذاخيلوال' نے ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ چابہار بندرگاہ كي تعمير اور ترقي سے خطے ميں پائيدار اقتصادي خوشحالي ممكن ہوگي اور يہ بندرگاہ ايران،افغانستان و بھارت كيلئے نہايت اہميت كي حامل ہوگي.
انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان چابہار بندرگاہ كو اس لئے اہميت نہيں دے رہا كہ صرف بھارت تك رسائي حاصل كرسكے بلكہ ہم اس سے خليجي ممالك سميت دنيا كے ديگر ملكوں كيساتھ تجارتي تعلقات بنانے كيلئے استفادہ كرنا چاہتے ہيں.
افغان سفير نے كہا كہ ايران مخالف عالمي پابنديوں كے خاتمے پر ہم خوش ہيں كيونكہ اس تبديلي سے چابہار بندرگاہ كي مزيد ترقي ہوگي.
پاكستان،افغانستان كے موجودہ تعلقات اور افغان امن عمل كے حوالے سے انہوں كہا كہ افغان طالبان كے تين ركني وفد نے حاليہ دنوں پاكستان كا دورہ كيا تھا مگر يہ وفد كسي بھي پاكستاني “حكومتي” ادارے سے ملاقات نہيں كي ہے.
انہوں نے كہا كہ افغانستان اپنے مستقبل كو صرف چار فريقي امن مذاكرات كميٹي پر محدود نہيں كرے گا اور ہم افغان امن عمل كيساتھ تعاون كيلئے اسلامي جمہوريہ ايران كے كردار كو بھي اہم سمجھتے ہيں.
انہوں نے كہا كہ آئندہ چارفريقي اجلاس مئي كے مہينے ميں منعقد ہوگا مگر افغانستان كو آئندہ اجلاس كے وقت اور جگے سے كوئي مسئلہ نہيں ہم ان مذاكرات كے تعميري نتائج كے خواہاں ہيں.
افغان سفير نے كہا كہ اگر پاكستان افغان طالبان كيساتھ رابطہ كرنا چاہے جس كا مقصد افغانستان ميں امن بحال كرنا ہے، تو ہميں اس پر كوئي اعتراض نہيں ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ ہم پاكستاني اور افغان طالبان گروہوں كو ايك جيسے سمجھتے ہيں اور ہم پاكستان سے مطالبہ كرتے ہيں كہ طالبان شدت پسندوں كے درميان كوئي امتياري رويہ نہ ركھے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲