اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ 48 پاکستانیوں کو ماسکو سے ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا،84 محصورین کو آج ڈی پورٹ کرنے کا امکان ہے، ترجمان دفتر خارجہ کہتے ہیں پاکستانیوں کو ایئرپورٹ پر روکے جانے اور واپس بھیجنے کی وجوہات معلوم نہیں۔ نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ ایک اہم موقع پر ہو رہا ہے جب ایران سے پابندیاں اٹھائی جا چکی ہیں۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ روس میں پاکستانی محصورین کے پاس ویزا سمیت دیگر دستاویزات موجود تھیں، اسلام آباد میں روسی سفارتخانے سے رابطے میں ہیں، یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ کچھ نہیں کر رہا، انہوں نے بتایا کہ یوم پاکستان کی تقریب میں روسی سفیر موجود تھے، جب روسی سفیر کو مطلع کیا تو انہوں نے ایک روسی اہلکار کو ان تاجروں کے پاس بھیجا، ابھی تک پاکستانی سفارتخانے کو تاجروں تک رسائی نہیں دی جا رہی، رشین فیڈریشن میں محصور اور ڈی پورٹ کیے جانے والے پاکستانی تاجروں کی جانب سے کسی قسم کی خلاف ورزی کا ابھی تک علم نہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم 31 مارچ کو واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ امریکہ میں ہونے والی نیوکلئیر سیکورٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے، ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نیوکلئیر کانفرنس میں وزیراعظم کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے کوئی باقاعدہ دعوت یا تجویز موصول نہیں ہوئی، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مستقل امن کے قیام کے لیے افغان عوام کے زیراثر امن عمل کی ضرورت ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جو کشمیریوں کی خواہشات کی عکاس ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ ایک اہم موقع پر ہو رہا ہے جب ایران سے پابندیاں اٹھائی جا چکی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایرانی صدر کے دورے کے دوران ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے تفصیلات کا انہیں علم نہیں، ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کی بھارت روانگی کی تفصیلات کا علم نہیں ہے، نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان میں داعش کی باقاعدہ موجودگی نہیں ہے۔
.......
/169