اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کینبرا میں آسٹریلیا کی اپنی ہم منصب جولی بشپ کے ساتھ ایک مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات، تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور ان تعلقات کو فروغ دینے کے لئے نئے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ محمد جواد ظریف نے جولی بشپ کے ساتھ ملاقات میں تعمیری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے مختلف حکام کے ساتھ مختلف شعبوں منجملہ اقتصاد و تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مذاکرات ہوئے ہیں جبکہ انتہا پسندی و دہشت گردی نیز منظم جرائم بھی، ایسے موضوعات رہے ہیں کہ جن پر تبادلۂ خیال ہوا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے تشدد و انتہا پسندی سے عاری دنیا کے زیرعنواں صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی کی منظور کی جانے والی تجویز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے خلاف مہم میں سنجیدہ تعاون کی ضرورت ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تشدد و انتہا پسندی کے خلاف مہم سے متعلق سنجیدہ عزم رکھتا ہے۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے بارے میں ایران و آسٹریلیا کے نقطۂ نظر سے متعلق کہا کہ شام اور یمن میں دہشت گردی کے خلاف مہم کے بارے میں ایران و آسٹریلیا، مشترکہ نقطۂ نظر رکھتے ہیں اور دونوں ملکوں کے چاہئے کہ داعش کے مقابلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلام، امن و دوستی اور انتہا پسندی کا مخالف دین ہے مگر اس وقت مسلمان ہی تشدد کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اس مشترکہ پریس کانفرنس میں آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے بھی ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا نے ایران کے خلاف پابندیاں ختم کردی ہیں اور وہ ایران کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے آمادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ یمن اور سعودی عرب کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، اپنا دورۂ نیوزی لینڈ مکمل کر کے پیر کی رات آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا پہنچے جہاں انھوں نے اس ملک کی وزیر خارجہ کے علاوہ آسٹریلیا کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری سے بھی ملاقات کی اور آسٹریلیا کی خارجہ، دفاع اور تجارتی امور کی کمیٹی میں علاقائی و عالمی مسائل کے بارے میں ایران کے مواقف پر روشنی ڈالی۔
.......
/169