اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حجت الاسلام و المسلمین 'حسن روحانی' نے ایرانی قوم کے درمیان اتحاد اور یکجہتی قائم رکھنے کے لئے صبر اور استقامت سے باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مسلے کے حوالے سے ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کی کامیابی در اصل قومی اقتدار کی نشاندہی کرتی ہے.
صدارتي ويب سائيٹ كے مطابق؛ يہ بات صدر مملكت روزحاني نے گزشتہ روز صوبہ فارس كے دارالحكومت 'شيراز' شہر كا دو روزہ دورے كے موقع پر ممتاز علمائے دين، جانبازوں اور ممتاز شخصيات كے ساتھ ايك نشست ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.
انہوں نے كہا كہ ايك وقت ايسا تھا جب يونيورسٹيوں كو ديني مراكز كے مقابلے ميں سمجھا جاتا تھا، ليكن شہيد مطہري (رہ) شہيد بہشتي (رہ) اور شہيد مفتح (رہ) كي كوششوں كے نتيجے ميں يونيورسٹيوں او ديني مراكز كے درميان حائل فاصلے مٹ گئے اور آج اللہ تعاليٰ كے فضل و كرم سے دونوں تعليمي ادارے ملك كو سنوارنے ميں مصروفِ عمل ہيں.
صدر مملكت نے كہا كہ ايران كي مذاكراتي ٹيم نے ميں پوري دنيا ميں ملك كا نام روشن كيا ہے اور ان كي دن رات كاوشوں كے نتيجے ميں آج دنيا كي چھ بڑي طاقتيں اس بات كو تسليم كرنے پر رضامند ہوگئي ہيں كہ ايران ايٹمي سرگرمياں جاري ركھ سكتا ہے.
انہوں نے كہا كہ دنيا كي بڑي طاقتوں كے مقابلے ميں ايراني مذاكراتي ٹيم كي كاميابي، قومي اقتدار كي نشاني ہے.
صدر مملكت ڈاكٹر روحاني نے دفاع مقدس كے دوران ايثار اور فداكاري كي اعلي مثال رقم كرنے والے شہيدوں اور جانبازوں كو زبردست الفاظ ميں خراجِ تحسين پيش كيا اور كہا كہ آج جو ہم نے دنيا كي بڑي طاقتوں كي آنكھوں ميں آنكھيں ڈالي ہيں، يہ سب كچھ شہيدوں اور جانبازوں كي قربانيوں كا مرہونِ منت ہے.
صدر روحاني نے نمونہ كے طور پر شيراز سے تعلق ركھنے والے پائلٹ شہيد عباس دوران كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ شہيد عباس دوران كو يقين تھا كہ وہ جس مشن پر جا رہا ہے اس سے واپسي ممكن نہيں ہے، ليكن اس كے باوجود انہوں نے رضاكارانہ طور پر اس مشن كا انتخاب كيا اور اپني جان پر كھيل كر اس مشن كو سرانجام ديا اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲