اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق منامہ پوسٹ نے ایک بحرینی قیدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ شکنجے اور اذیتیں دینے والے جلاد، قیدیوں کے جسم کو پیروں سے روندتے ہیں۔
یہ قیدی جس نے اپنا نام نہیں بتایا، کہا ہے کہ جیلر ان قیدیوں کو ایک وقت کا کھانا بھی کڑی دھوپ میں دیتا ہے اور پھر انہیں مجبور کرتا ہے کہ ایک بڑے صحن میں قلابازیان لگائیں تاکہ جو کہ کچھ کھایا ہے وہ قے کی صورت میں نکل جائے۔
اس بحرینی قیدی نے کہا کہ "جو" جیل کے حالیہ واقعات میں قیدیوں کو دی جانے والی مسلسل ایذاؤں کو "ٹارچر فیسٹیول" کے نام سے شہرت حاصل ہے کیوں کہ بڑی تعداد میں افراد کو اذیتیں دی گئی ہیں اور ان کے آثار قیدیوں کے بدن پرنمایاں ہیں۔
بحرین کے اس سرگرم کارکن نے کہا کہ بعض قیدیوں کے جسم پر ابھی بھی وہی لباس ہے جو انہیں انقلابی سرگرمیوں کے آغاز میں جیلوں میں پہنایا گیا تھا۔
دوسری جانب ایک اور قیدی عیسی مشعل کے اہل خانہ نے ان کی سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ "جو" جیل میں بحرینی اہکاروں کے ہاتھوں ان کو شکنجے دینے سے ان کی بعض ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
اس خاندان نے کہا ہے کہ حال ہی میں عیسی مشعل کو شدید اذیتیں دیئے جانے کی خبر موصول ہوئی ہے اور وہ ان شکنجوں اور اذیتوں کے باعث زیادہ دیر کھڑے نہیں رہ سکتے ہیں۔
.......
/169