اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ترجمان بھروز کمالوندی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کو چاہئے کہ اب ایران کا کیس بند کردے اور معمول کے طور پر اس کا جائزہ لے۔
ایران کی ایٹمی توانائی کی تنظیم کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایسے میں جبکہ آئی اے ای اے ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرکے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی کوشش کا الزام عائد کررہی ہے،
اسلامی جمہوریہ ایران نے ان تمام الزامات کا جواب دے دیا ہے اس کے باوجود بھی ایران کے خلاف نت نئے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔
بھروز کمالوندی نے کہا کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ساتھ گفتگو میں بارہا، زبانی اور تحریری طور پر ان کے سامنے تمام مسائل کے بارے میں وضاحت پیش کی گئی ہے اور ان کو ایران کی تنصیبات کے معائنے میں بھی کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی اے ای اے میں بعض مسائل میں تحقیقات کی صلاحیت کا فقدان ہے ۔
کمالوندی نے کہا کہ ہم، آئی اے ای اے کے الزامات کی جنگ میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان لوزان بیان جاری ہونے کے بعد امریکیوں کا فیکٹ شیٹ جاری کرنے کا قدام ایک غلطی تھی۔
........
/169