اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آل سعود کو خطرے کی صورت میں ان کی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایوان کو اعتماد میں لینے کے لیے چھ اپریل کو پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس بلایاجائےگا۔ یمن کے معاملے میں پاکستان کے ممکنہ کردار اور آل سعود کی طرف سے یمن پر چڑھائی کرنے کے مقصد سے پاکستانی فوج بھیجنے کی درخواست پر غور کے لیے نواز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ آل سعود سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ کسی بھی فیصلے سے پہلے پاکستان کا مفاد مقدم ہے- نواز شریف نے اس کے ساتھ ہی دعوی کیا کہ تمام فیصلے عوامی خواہشات کے مطابق کریں گے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ یمن میں تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے ، مسائل کے حل کے لیے مسلم امہ کا اتحاد ضروری ہے، اس موقع پر سعودی عرب کا دورہ کرنے والے وفد نے اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی- واضح رہے کہ یمن پر سعودی جارحیت کے مخالف پاکستانی سیاسی اور مذھبی حلقوں کا کہنا ہے کہ شریف خاندان پر آل سعود کے احسانات بہت زیادہ ہیں تاہم ان احسانات کے بدلے پاکستانی فوج کے جوانوں کو یمن کی آگ میں جھونکنے کی اجازت نہیں دی سکتی- پاکستانی رائے عامہ کا کہنا ہے کہ یمن کے سیاسی بحران کو بہانہ بناکر سعودی عرب نے ایک اسلامی اور عرب ملک پر جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جس کی بنا پر اس کی مدد و حمایت کا کوئی جواز نہیں ہے-
.......
/169