اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کی ساڑھے 4 سال کی طویل اسیری کے بعد غیر مشروط رہائی پر، جماعت اسلامی جموں و کشمیر انہیں زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُن کی رہائی کو تحریک آزادی جموں و کشمیر کے لیے ایک نیک شگون تصور کرتی ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسرت عالم کی رہائی پر بھارت کے چند فرقہ پرست قوتوں کا واویلا مچانا، اُن کی مسلم دشمن ذہنیت کا واضح ثبوت ہے حالانکہ یہ حقیقت اظہر مِن الشمس ہے کہ موصوف سیاسی سطح پر تحریک آزادی سے وابستہ ہیں جو کہ ایک حقیقی جمہوریت میں ہر ایک فرد کا بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے۔ نیز جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی بات کرنا، ہر ایک انسان کا حق ہے اور اس حق پر قدغن لگانا، انسانیت کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی واضح پامالی ہے۔ مقامی ہند نوازوں کی طرف سے صاحب موصوف کی رہائی پر ناراضگی کا اظہار بھی انتہائی قابل افسوس ہے حالانکہ ایسے لوگ ماضی میں اپنے آپ کو عوام کے بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اور اسی بنیاد پر اُن کو کافی دیر تک یہاں کے مظلوم عوام کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی۔ مسرت عالم کو یہاں ہائی کورٹ سے لے کر دیگر عدالتوں نے تمام مقدمات سے بری کردیا ہے اور یہاں کی حکومت ان کے خلاف آج تک کسی مقدمہ کو صحیح ثابت کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے البتہ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کا سہارا لیتے ہوئے ایک بے گناہ آدمی کی شخصی آزادی کو پامال کرتی رہی جو کہ دنیا کے تمام مہذب انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہونے کے علاوہ عدلیہ کی واضح توہین بھی ہے۔ جماعت اسلامی کا واضح مؤقف ہے کہ تحریک آزادی سے وابستہ ہونے کی پاداش میں جو بھی قیدی یا نظر بند ابھی بھی جیلوں میں پڑے ہیں، اُن کو محبوس رکھنے کا کوئی بھی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔ اس لیے اُن کی رہائی انکا حق ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169