اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہےکہ ایٹمی ایندھن بنانے کا یہ سسٹم ہمارے لئے قابل فخر کارنامہ ہے- انہوں نے کہا کہ اس سسٹم کی نمائش شمی سال کے پہلے مہنیے کی بیس تاریخ مطابق نو اپریل کو رونمائي کی جائے گي- علی اکبر صالحی نے کہا کہ یہ پہلا ایندھن بنانے والا سسٹم ہے جو ملک میں تیار کیا گيا ہے اور ہم اس پرفخر کرتے ہیں- انہوں نے کہا کہ بوشہر میں ایک ایک ہزار میگاواٹ کے دوایٹمی بجلی گھر بنانے کا معاہدہ روس کے ساتھ طے ہوا ہے- انہوں نے کہا کہ ان بجلی گھروں کی تعمیر کا کام تقریبا دس برس میں مکمل ہوگا- انہوں نے کہا کہ پہلا ایٹمی بجلی گھر آٹھ برس میں تیار ہوگا اور دوسرا بجلی گھر اس کے دو برس بعد شروع کیاجائے گا- انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی بجلی گھروں کے درمیاں دو سال کا فاصلہ اس وجہ سے رکھا گيا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملکی صنعتیں جدید ترین ٹکنالوجی کی حامل ہوجائيں اور ان ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر میں حصہ لیں- انہوں نے کہا کہ ان ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کی ڈیزائننگ کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اگلے برس ہم اس پر کام شروع کردیں گے - انہوں نے کہاکہ کئي مہینوں قبل اس بجلی گھر کی تعمیر کے لئے کیمپ بنانے کا کام میری سرپرستی میں شروع ہوچکا ہے- انہوں نے کہا کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی سائٹ میں ایک جدید ترین شہر کی تعمیر کا کام بھی شروع ہوجکا ہے اور اس شہر میں دس سے تیرہ ہزار افراد کی گنجائش ہوگي- ایٹمی ادار ے کے سربراہ نے کہا کہ آئندہ دو دنوں میں ایٹمی ادارے کے نائب سربراہ ماسکو کا دورہ کریں گے تا کہ ایران و روس کے معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کی کمپنیوں کے درمیان بھی اس سلسلے میں معاہدے ہوجائيں- علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کے علاوہ ایران نے روس کے ساتھ ایٹمی بجلی گھروں کے ایندھن کی فراہمی کے بارے میں بھی معاہدہ کیا ہے- انہوں نے کہا کہ ہم نے انیس سو پچانوے میں روس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ماسکو ایران کے سالانہ چار ایٹمی ایندھن بنانے کے سسٹموں اور دس برسوں میں زیادہ سے زیادہ چھبیس ایٹمی ایندھن بنانے والے سسٹموں کی نگرانی اور نظارت کا کام کرے گا -
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲