اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عالم اسلام کے ممتاز مفسر قرآن اور حوزہ علمیہ قم کے جید استاد حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے تفسیر کے درس خارج میں سورہء مبارکہء غافر کی تفسیر کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہ جو مسجد اعظم قم میں ہوتا ہے،کہا : ڈر کا سلسلہ ذاتی طور پر پسندیدہ نہیں ہے اس لیے کہ کفار جب آگ کو دیکھتے ہیں تو وہ ڈر کر اس کے سامنے تواضع اور خضوع اختیار کرتے ہیں لیکن ایسا ڈر اور خوف کمال نہیں ہے ۔
انہوں نے مزید کہا : سورہء مبارکہء حشر میں ارشاد ہوا ہے کہ کچھ لوگ جب اہل ایمان کے روبرو ہوتے ہیں تو وہ ڈرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن ان کا یہ ڈر دینی نہیں ہے۔ دینی خوف وہ ہوتا ہے کہ انسان شناخت اور خداوند عالم کی ذات کے بارے میں علم کے ہوتے ہوئے خائف ہوں ،خدا کی ذات سے زیادہ وہ ظاہری دشمن سے ڈرتے ہیں ۔
قرآن کریم کے اس برجستہ مفسر نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ دنیا میں عذاب الہی سے ڈرنا کمال ہے، یاد دلایا : سورہء مبارکہء شوری میں ارشاد ہوا ہے کہ کافروں کو جب جہنم کے سامنے لے جایا جائے گا تو وہ خاضع اور خاشع ہو جائیں گے ،جب کہ یہ کمال نہیں ہے ،کمال وہ ڈر ہے کہ جو عبادت کا سبب بنے وہ ڈر کمال نہیں ہے کہ کوئی بیگانوں کی طاقت سے خوف زدہ ہو ۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ انبیاء کے لیے تقیہ نہیں ہے لیکن اہل بیت (علیہم السلام) کے لیے تقیہ ہے، اظہار خیال کیا : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کی پہچان کرواتے ہوئے تقیہ نہیں کیا، بلکہ اس بات کے منتظر تھے کہ بڑا میدان ملے اور وہ حضرت علی (علیہ السلام) کی حکومت کا اعلان کریں ،حضرت کو سیاسی خوف تھا کہ لوگ چال چلیں گے اور کہیں گے کہ اس نے اپنے داماد کو اپنی جگہ پر بٹھایا ہے ۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اظہار خیال کیا: پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ امویوں کے بہت سارے قبیلوں نے سر تسلیم خم کیا لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، تلوار ان کے ہاتھ سے لے لی گئی اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کا کوئی خوف نہیں تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تقیہ فرماتے ،جب ان کے پاس تلوار تھی تب آپ نے تقیہ نہیں کیا ،پس وجہ یہ تھی کہ ایک تو آپ وسیع تر کھلی جگہ کی تلاش میں تھے اور دوسرے یہ کہ خطرہ سیاسی نوعیت کا تھا کہ جس کے بارے میں خدا وند عالم نے فرمایا کہ اس سے بھی بچائے گا ۔
انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں سورہء مبارکہ فتح کی ابتدائی آیات کے بارے میں فرمایا : فقہی گناہ اور فتح مکہ کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے بلکہ یہ گناہ سیاسی گناہ ہے کہ جس کا وہم دوسروں کو تھا اور فتح مکہ اس وہم کے زایل ہونے کا سبب بنا تھا ۔
کتاب مفاتیح الحیات کے مولف نے یاد دلایا: قرآن فرماتا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ ان کا کچھ نہیں ہونے والا ہے وہ اس چیز کے پیچھے ہیں کہ قرآن کو باطل کر سکیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے ،قرآن ایک مضبوط رسی ہے جس کو زمین پر آویزاں کیا گیا ہے اب ایک سرا اگر خدا کے ہاتھ میں ہے تو کوئی اسے باطل نہیں کر سکتا ۔
عالم کو کھلی چھوٹ نہیں ہے
انہوں نے آیہ:" إنَّ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (غافر/۵۶)کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بیان فرمایا : کافر اس چیز کے پیچھے ہیں کہ وہ آیات الہی کو بھی باطل کریں اور اپنے غرور کو بھی حاصل کریں ان سے کہہ دیجیے کہ وہ ایسا نہیں کر پائیں گے ۔
حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے آیہ:" لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ"ء (غافر/۵۷)کی تلاوت کر کے فرمایا : یہ لوگ اپنےمقصد تک نہیں پہنچیں گے اس لیے کہ یہ خدا وند عالم کی تدبیر کے زیر سایہ ہیں وہ خدا جو تمام آسمانوں اور زمین کو چلاتا ہے وہ ان کو بھی چلا سکتا ہے ۔
انہوں نے بیان کیا : سب لوگ ان باتوں کو جانتے ہیں کہ آسمان و زمین اور اس نظام کا پیدا کرنا انسان کے پیدا کرنے سے بڑھ کر ہے ،اگر کوئی خالق کی خلقت کو مانتا ہے تو یہ واضح اور آشکار ہے کہ وہ جس کا بدن اس مجموعے کے اندر ہے تو اس مجموعے کا پیدا کرنا انسان کی خلقت سے بالاتر ہے لیکن جس کے اندر تکبر ہے وہ نہیں جانتا کہ خدا ان کو ان کا اصلی ٹھکانہ بتائے گا ۔
قرآن کریم کے اس برجستہ مفسر نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ آیت جو موضوع بحث ہے اس کا تعلق معاد (قیامت ) کی بحث سے نہیں ہے کہ زمخشری نے جس کی طرف اشارہ کیا ہے ،اظہار کیا : ان کی کوشش اور تلاش یہ ہے کہ وہ دین کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں ،لیکن خدا ایسا کرنے نہیں دے گا ، ان کی تلاش اور کوشش یہ ہے کہ اپنے تکبر کو حاصل کریں لیکن خدا ایسا کرنے نہیں دے گا ،بہر حال یہاں معاد کی کوئی بحث نہیں ہے ۔
انہوں نے بیان کیا : آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے امور کی تدبیر کرنے سے بڑھ کر ہے آپ جدال کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کو ایسا کرنے نہیں دے گا اور تمہارے امور کی تدبیر کرتا ہے ،میرے استاد نے اس راستے کو طے کیا ہے ان کی توجہ اس مسئلے پر نہیں تھی کہ معاد کا مسئلہ زیر بحث ہے خدا وند عالم فر ماتا ہے کہ ہم نے عالم کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا ہے ۔
امریکہ اور اوباما ۷ کروڑ انسانوں کی لاش پر کھڑے ہو کر دنیا پر حکومت کا دعوی کرتے ہیں
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے تاریخ کی مدیریت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اظہار خیال کیا : تاریخ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وجود مبارک ،موسی کلیم (علیہ السلام) حضرت عیسی (علیہ السلام) اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ہے دنیا کو یہ ہستیاں چلا رہی ہیں بہت سارے نہیں جانتے کہ عالمی جنگ میں کم سے کم ۷ کروڑ افراد مارے گئے ،لیکن کربلا میں ۷۲ افراد شہید ہوئے تو پورا مشرق وسطی ان کے چہلم کے لیے گھروں سے امڈ پڑا ۔
انہوں نےاپنی بات جاری رکھی : چہلم کا یہ واقعہ عالم گیر ہے ،دھڑکتے دلوں نے ان دو کروڑ افراد کو چلایا ہے یہ عالمی کام ہے اور انسان کے بس کا نہیں ،یہ عالمی جنگ بھی اسی صدی کی تھی یہاں کوئی تاریخ بیھقی نہیں ہے کہ جس کے بارے میں کہیں کہ سند رکھتی ہے یا سند نہیں رکھتی ،عالمی جنگ میں کم سے کم ۷ کروڑ مارے گئے ۔
کتاب مفاتیح الحیاۃ کے مولف نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت امریکہ اور اوباما ۷ کروڑ کی قبر پر کھڑے ہو کر سر اونچا کر کے کہہ رہے ہیں کہ ہم دنیا کو چلا رہے ہیں ،اظہار کیا :کوئی ،عالم ہو ادیب ہو ،تہذیب یافتہ ہو ،مہربان ہو اور متدین اور مذہبی ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ ہم دنیا کو چلا سکتے ہیں لیکن یہ قاتل گروہ سات کروڑ انسانوں کی لاشوں کے انبار پر کھڑے ہو کریہ دعوی کیسے کر سکتے ہیں ؟ ان کو کس نے قتل کیا ہے ؟
انہوں نے عالمی استکبار کے رہنماوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا : تم نے گلیلیو کو بھی جلایا اور قرآن کو بھی تمہارے کلیساوں میں نذر آتش کیا گیا ہے ، آپ کو تو بس شرم سے ڈوب مرنا چاہیے یہ کہنے سے کہ ہم دنیا کے مدیر ہیں اور اس عالمی دیہات کو ادارہ کر رہے ہیں ،اور ہمارا حق زیادہ ہے ،اگر کوئی عالم اور عادل ہو تا تو اس کو یہ حق حاصل تھا ۔
حضرت آیت اللہ جوادی عاملی نے مزید کہا : آپ کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے ، سات کروڑ کی قبر تمہارے قدموں کے نیچے ہے پھر بھی آپ کو شرم نہیں آتی ،یہ کہنا کہ ہم بر تر قوم ہیں اور دنیا پر حکومت کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے ،اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،دنیا کو یہ چار پیغمبر چلا رہے ہیں اور یہ باقی رہیں گے ۔
عقل عملی کی ذمہ داری ایمان لانا ہے
انہوں نے آیہ:" وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَلَا الْمُسِيءُ قَلِيلًا مَّا تَتَذَكَّرُونَ" (غافر/۵۸) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا : آگے فرماتے ہیں کچھ علمی مسائل ہیں کہ جنہیں آپ نہیں جانتے اور لازمی ہیں اور کچھ عمل صالح ہیں لازمی ہیں کچھ اہل تحقیق ہیں اور درس پڑھے ہوئے ہیں مگر غلط راستے پر چل پڑے ہیں آپ اس گروہ میں سے ہیں ،کچھ لوگ اہل تحقیق نہیں ہیں بلکہ وہ معمولی افراد ہیں جو سیدھے راستے پر چل رہے ہیں ،خدا کا فرمانبردار اور خدا کا مخالف مساوی نہیں ہیں ۔
قرآن کریم کے برجستہ مفسر نے یاد دلایا : اندھا اور بینا یکساں نہیں ہوتے ،اس بات کو سبھی جانتے ہیں لیکن سب نہیں جانتے کہ کچھ لوگ باطنی اندھے ہوتے ہیں اور کچھ کی باطنی آنکھ ہوتی ہے ورنہ روئے زمین پر کوئی نہیں ہے جو نہ جانتا ہو کہ اندھا اور بینا یکساں نہیں ہیں ،وحی اور جبرئیل آئے ہیں جنہوں نے یہ بتایا ہے کہ انسان کے اندر ایک آنکھ ہے اور وہ کہ جس کی اندر کی آنکھ دیکھتی ہے ،اور جس کی اندر کی آنکھ نہیں دیکھتی وہ یکساں نہیں ہیں ۔
انہوں نے آیہ:" إِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ"(غافر/۵۹) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھائی : خدا وند عالم فرماتا ہے قیامت آنے والی ہے اور یہ موضوع حتمی اور ضروریات میں سے ہے ،یہ بالضرورۃ یعنی محمول موضوع سے جدا نہیں ہوتا ، معاد کے مسئلے میں لاریب فیھا اور لاجرم کا مطلب اس کا ضروری ہونا ہے ۔بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ قیامت حق ہے لیکن عملا وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے ۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ عقل عملی کا کام ایمان لانا ہے ،یاد دلایا : جس کی عقل عملی مقفل ہو وہ ایمان نہیں لاتا حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے یہ میرا نفس ہے کہ جس کو میں نے ہر روز تقوی کا عادی بنایا ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی عقل کو تقوے کا عادی بنائیں ۔
.........
242