5 مارچ 2015 - 11:15
نیتن یاہو کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا / ان کیچووں کو رینگنے دو

امریکی کانگریس میں نیتن یاہو کی تقریر کا اگر نچوڑ پیش کریں تو گذشتہ کیے گیے تکراری کھوکھلے دعووں کے علاوہ اس میں سے کچھ نہیں نکلے گا ؛ایران پر اعتماد نہ کریں ،لیکن اس تکراری مضمون کو اب دنیا نہیں ماننے والی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران کے ایک ماہر تحلیلگر علی رضا کریمی نے صہیونی وزیر اعظم نیتویاہو کی امریکی پارلیمنٹ میں حالیہ جنجالی تقریر کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  بنیامین نیتن یاہو، صہیونی حکومت کے وزیر اعظم کو سی این این کے مشہور تجزیہ نگار فرید زکریا کے بقول اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ کیوں اس کی گذشتہ ۲۵ سال کی پیشین گوئیاں ایران کے سلسلے میں سچ ثابت نہیں ہوئی ہیں اس نے شب منگل امریکی کانگریس میں تقریر کی،ایسی تقریر کہ جس کے بارے میں اس نے خود اعتراف کیا تھا کہ جنجالی ہو گی۔

مقبوضہ سر زمینوں میں انتخابات میں صرف دو ہفتے بچے ہیں ،امریکہ کے صدر نے اسرائیل کے وزیر اعظم سے ملاقات تک گوارا نہیں کی اور اس تقریر کی مخالفت کا کھل کر اعلان کیا  اور ٹی وی پر اسے دیکھنا تک پسند نہیں کیا ۔جس وقت نیتن یاہو کی تقریر ہو رہی تھی اس وقت وہ یورپی ملکوں کے سربراہوں سے بات کر رہا تھا اور اس کی پارٹی کے کانگریس میں  ۵۰ سے زیادہ افراد نے پہلے  سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق  اسرائیل کے وزیر اعظم کی تقریر کا بائکاٹ کیا ۔

کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی تقریر کانگریس کے جمہوری خواہوں کے لیے دو جانبہ فائدے کی حامل تھی ۔ جمہوری خواہوں کے لیے ایک موقعہ تھا کہ وہ اسرائیل کے وزیر اعظم سے ڈیموکریٹس کے صدر کے خلاف استفادہ کریں ،اور نیتن یاہو کے لیے موقعہ تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف لشکر کشی کرے ،اور وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب بعض کی نظر میں جامع جوہری سمجھوتے کا حصول ممکن لگ رہا ہو ۔

لیکن اس سارے جنجال کے پیچھے اصلی سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو کے پاس کہنے کے لیے کیا تھا؟ اس کی منحوس زبان پر کون سی نئی چیز جاری ہوئی؟ وہ کہ جس کا واحد ہنر شاید فصیح انگریزی میں تقریر کرنا ہو ،اس نے کیا کہا کہ ذرائع ابلاغ جس پر ایک ہفتے تک وبال کھڑا کریں؟ اس سوال کا جواب بالکل مشکل نہیں ہے؛ نیتن یاہو کے پاس کہنے کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔

کانگریس میں نیتن یاہو کی تقریر کا ڈھانچہ،

کانگریس کے اکثر جمہوری خواہ نمایندوں کی طرف سے تعریفوں کے پل باندھنا، قدس کی غاصب صہیونی حکومت کے وزیر اعظم کی پوری تقریر پر سایہ فگن رہا، یہاں تک کہ اگر ان کے ملک کا صدر تقریر کرتا تو اس حد تک اس کے لیے تالیاں اور سیٹیاں نہ بجائی جاتیں ،یہ شاید اوباما کے سامنے دو طرفہ طاقت کا مظاہرہ تھا ،کانگریس کے جمہوری خواہوں کی طرف سے بھی اور نیتن یاہو کی طرف سے بھی کہ جو خود جانتا ہے کہ اس کے آج کل اوباما کے ساتھ تاکتیکی اختلافات چل رہے ہیں ۔

لیکن صہیونی وزیر اعظم کی تقریر کے اصلی محور درج ذیل موضوعات تھے :

۱ ۔ کانگریس کو دنیا کی سب سے بڑی قانون ساز تنظیم کے طور پر پہچنوانا،

۲ ۔ اوباما کی اسرائیل کے لیے کوششوں کا اعتراف کرنا : نیتن یا ہو نے اس اعتراف کو عملا ثابت کر دیا کہ  اس کا اوبا ما کے ساتھ کوئی بھی عملی اختلاف نہیں ہے ان کے تمام اختلافات کا تعلق تاکتیکوں سے ہے ،میزائلی دفاعی سسٹم کو بڑھاوا دینا ایک ایسا موضوع تھا کہ جس کی وجہ سے نیتن یاہو نے اوباما کی قدر دانی کی اور اعتراف کیا کہ اوباما کی اس کی حکومت کو کی گئی بہت ساری امدادیں قابل ذکر نہیں ہیں لیکن وہ ان سے باخبر ہے ؛

۳ ۔ تاریخ کی جانب رجوع : صیہونی خود کو ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ تاریخ کی جانب رجوع کرتے ہیں تا کہ خود کو داوود علیہ السلام اور سلیمان ع کی حکومت کی عظمت کا وارث ثابت کر سکیں ۔نیتن یاہو نے اس بار یہودیوں کی ایرانیوں کے خلاف ایک تاریخی داستان کا ذکر کیا اور اس کی مدد سے دعوی کیا کہ ایک بار پھر ایرانی یہودیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔

۴ ۔ ایران سے خوف زدہ کرنا : نیتن یاہو کی تقریر کا بڑا حصہ ایران سے خوف زدہ کرنے پر مبنی تھا ۔یہ کہ ایران مشرق وسطی میں اپنے نفوذ کو بڑھاوا دے رہا ہے ،یہ کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے ، یہ کہ ایران کی آئیڈیالوجی جہاد کو اور  اسلامی نیم فوجی کلچر کو بڑھاوا دینا ہے ، یہ کہ ایران کی بنیاد قتل و غارت پر استوار ہے وغیرہ وغیرہ ؛

۵ ۔ داعش کے خلاف جنگ میں ایران کے تعاون کے سلسلے میں تشویش: نیتن یا ہو کا عقیدہ ہے کہ ایران اور داعش کے درمیان جنگ ،اسلام پسند نیم فوجی بادشاہی کو لے کر ہے اور اس سلسلے میں دشمن امریکہ کا دشمن ہے ۔البتہ نیتن یا ہو خود بھی جانتا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں ایران امریکہ کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ ہے ؛

۶ ۔ ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کو ناکارہ قرار دینا : اسرائیل کے وزیر اعظم کی نظر میں دو دلیلوں کی بنا پر وہ سمجھوتہ جو ایران اور پانچ جمع ایک کے نام سے موسوم ممالک کے درمیان مذاکرات  کے نتیجے میں ممکن ہے کہ ہو جائے وہ ناکارہ ہے ۔ پہلی یہ کہ یہ سمجھوتہ ایران کی جوہری بنیادوں کو نابود نہیں کرتا اور دوسری یہ کہ چونکہ بین الاقوامی ایٹمی انرجی کے تجزیہ کار صرف خلاف ورزیوں کو لکھ سکتے ہیں ۔ان سے روک نہیں سکتے ۔دوسری طرف ایران کے ساتھ سمجھوتے کا آخری قدم اٹھا لیے جانے کے بعد ایران پر اپنے جوہری پروگرام میں کوئی پابندی نہیں ہو گی لہذا وہ نیتن یا ہو کے خیال میں ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے ؛

۷ ۔ علاقے میں ایران کے نفوذ کے بارے میں تشویش: نیتن یاہو کی نظر میں اس وقت علاقے کے چار عربی پایتخت ایران کے اختیار میں ہیں اب اگر اس ملک کے اوپر سے پابندیاں اٹھا لی گئیں تو اور زیادہ ملک ایران کے زیر اثر آ سکتے ہیں ؛

۸ ۔ ایران کے ساتھ سمجھوتے کی شرط رکھنا: صہیونی حکومت کے وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے لیے تین شرطیں بیان کیں؛ یہ شرائط یہ ہیں کہ وہ ہمسایوں پر حملہ نہ کرے دہشت گردی کی حمایت اور اسرائیل کو نابود کرنے کی دھمکی دینے سے دست بردار ہو جائے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حکومت کہ اب بھی جس کا پڑوسیوں کی سر زمین کے کچھ حصوں پر قبضہ ہے اور جو دہشت گردی کی سب سے بڑی حامی ہے وہ ایران کے  لیے ایسی شرطیں مقرر کر رہی ہے ؛

۹ ۔ مذاکرات ترک کر دینے کی ایران کی دھمکی کو بلف کرنا قرار دینا :نیتن یا ہو کا دعوی ہے کہ مذاکرات کو ترک کر دینے کی ایران کی دھمکی ایسی ہی ہے کہ جیسے ایران کے بازاروں میں چونہ لگایا جاتا ہے دوسرے لفظوں میں اس میں زیادہ سنجیدگی نہیں ہے ۔نیتن یا ہو کی نظر میں ایران کو مغرب سے زیادہ اس سمجھوتے کی ضرورت ہے ؛

۱۰ ۔ صہیونی فوج کی طاقت کے بارے میں ڈینگیں مارنا : اس نے دعوی کیا کہ صہیونی حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ دوبارہ یہودیوں کا قتل عام کیا جائے ۔ اس نے ۲۰۰۶ کے بعد صہیونی فوج کی شکست کی جانب اشارہ نہیں کیا ۔

اس مضمون کا اگر نچوڑ نکالیں تو  نیتن یاہو کے تکراری دعووں کے علاوہ اس میں سے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا ان تمام باتوں کا مقصد صرف یہی ہے کہ ایران پر اعتماد نہ کریں لیکن اس تکراری مضمون کو دنیا قبول نہیں کرے گی ۔ حتی ایران کے دشمنوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں اور اس کے سوائے کوئی چارہ نہیں ہے ۔

نیتن یا ہو کے جھوٹے دعووں نے اوباما کو  یہ کہنے پر مجبور کیا کہ اس کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی ۔نیتن یا ہو جیسے دشمن کا وجود اصلا برا اتفاق نہیں ہے ،نیتن یاہو صرف ایران کے دشمنوں کے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہا ہے اور یہ سب سے بڑا نقصان ہے کہ جو اس ملت کو ہو رہا ہے ۔

ملت ایران کی حقانیت اس وقت سب پر عیاں ہو گی  کہ جب نیتن یاہو جیسا جراثیم اس کے خلاف زبان کھولے ،پس ان کیڑوں کو رینگنے دیں اور ان کے بچوں کو ان کے لیے تالیاں اور سیٹیاں بجانے دیں ۔  
...........

242