اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شام کے صدر بشار اسد نے بدھ کو پرتگال کے ٹی وی چینل آر ٹی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوچکی ہیں- انہوں نے کہا کہ یہ ان اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسائل حل کریں اور ملکوں کے اقتدار اعلی کی حمایت کرتے ہوے جنگوں کا سد باب کریں- صدر بشار اسد نے کہا کہ مغربی حکومتیں دہشتگردی کامقابلہ کرنے کا کوئي ارادہ نہیں رکھتیں کیونکہ امریکہ نے خود کہا ہے کہ وہ پانچ ہزار مسلح افراد کو ٹریننگ دے رہا ہے- انہوں نے کہ یہ اقدام دہشتگردی کی حمایت ہے- شام کے صدر نے کہا کہ واشنگٹن، شام مخالف دہشتگردوں کی مالی اور فوجی مدد کررہا ہے- انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مدد ان ہی گروہوں کو جارہی ہے جنہيں تکفیری اور انتھا پسند کہا جاتا ہے- بشار اسد نے کہا کہ شام کے عوام اور فوج دہشتگردی کا مقابلہ کررہی ہے اور حکومت کے ادارے بدستور سرگرم عمل ہیں- انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت حتی دہشتگردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں بھی سرکاری ملازمین کو تنخواہ دے رہی ہے- صدر بشار اسد نے کہاکہ بعض مغربی اور علاقائي ملکوں کی جانب سے تکفیری دہشتگردوں کی مسلسل حمایت، شام میں دہشتگردی کی بیخ کنی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئي ہے- انہوں نے کہا کہ شام کو اعتدال پسند مخالفین کا سامنا نہیں ہے بلکہ یہ وہ دہشت گرد ہیں کہ جنہیں مغرب، سعودی عرب، ترکی اور قطر نے انہیں وجود بخشا ہے- صدر بشار اسد نے کہا کہ ان کے ملک کو تکفیری دہتشگرد گروہ داعشع النصرۃ محاذ اور دیگر تکفیری دہشتگردوں سے خطرہ لاحق ہے- شام کے صدر نے کہا کہ داعش اچانک سامنے نہیں آگئي بلکہ اسے معرض وجود میں لانے کی پلاننگ اور سازش رچی گئي تھی- انہوں نے کہا کہ داعش کی فکر وہابیت ہے اور شام و دیگر ملکوں میں ایسی آيئڈیا لوجی نہیں تھی بلکہ وہابیت کی جڑوں کو محض سعودی عرب اور قطر میں دیکھا جاسکتا ہے-
........
242