اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق جیمز کلیپر نے امریکی سینٹ میں مسلح افواج کے کمیشن میں کہا کہ داعش سے مقابلہ، ترکی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اسی مسئلے نے غیر ملکی دہشت گردوں کے لئے ترکی کے راستے شام ميں داخل ہونے کو آسان بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کی ترجیحات اور مقاصد کچھ اور ہيں جنھیں وہ حاصل کرنا چاہتا ہے- واضح رہے کہ ترکی میں ہونے والے ایک سروے سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ داعش ترکوں کے لئے سنجیدہ خطرہ شمار نہیں ہوتا اور ترک عوام اورحکومت کو زیادہ تر اپنے معاشی مسائل یا کرد علیحدگي پسندوں کی مشکلات کی بابت تشویش لاحق ہے۔ امریکی نیشنل انٹلیجنس ادارے کے سربراہ کلیپر نے کہا کہ ان تمام مسائل کا نتیجہ یہ ہے کہ ترکی کے قانونی شعبے کی غفلت کی بناپر غیر ملکی دہشت گرد آسانی کے ساتھ ترکی کے راستے شام میں داخل ہوتے ہیں۔ اور اعداد و شمار سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ساٹھ فیصد غیر ملکی دہشت گرد، ترکی کے ہی راستے شام ميں داخل ہوئے ہیں۔
.......
/169