اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسے حال میں کہ عالم اسلام سعودی عرب سے وجود پانے والے تکفیری افکار کی آگ میں جل رہا ہے یہ ملک ’’اسلام اور دھشتگردی کے خلاف کانفرنس‘‘ کا انعقاد کر رہا ہے!
تین روزہ یہ عالمی کانفرنس جو گزشتہ روز اتوار ۲۲ فروری کو مکہ مکرمہ میں شروع ہوئی میں سعودی عرب کے مفتی اعظم عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ اور شیخ الازھر ڈاکٹر احمد الطیب کے علاوہ دنیا کے مخلتف ممالک سے سنی علماء نے شرکت کی جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی ایک ٹیم نے بھی اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا۔
اس کانفرنس میں قابل توجہ بات یہ تھی کہ اس کے مقررین نے یہ ظاہر کیا کہ انہیں دھشتگردی کا خطرہ محسوس ہو چکا ہے اور اب وہ اسے ختم کرنے کے کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری قابل توجہ بات یہ تھی کہ اس کانفرنس میں شیخ الازھر بھی موجود تھے جو ایران میں کبھی بھی اس طرح کی کانفرنسوں میں دعوت دئیے جانے پر حاضر نہیں ہوئے جبکہ سعودی عرب میں ان لوگوں کی دعوت پر حاضر ہو گئے جو کھلے عام دھشتگردوں کی غذا فراہم کرتے اور حمایت کرتے ہیں۔

سعودی بادشاہ: سعودی عرب دھشتگردوں کے ساتھ جنگ میں کوتاہی نہیں کرے گا!
سعودی عرب کے بادشاہ ’’شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود‘‘ نے اس کانفرنس میں ایک پیغام بھیج کر کہا ہے کہ سعودی عرب دھشتگردوں کے ساتھ جنگ کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گا!
سعودی بادشاہ کا پیغام ان کے مشیر امیر خالد الفیصل بن عبد العزیز کے ذریعے پڑھا گیا۔ سعودی بادشاہ کے پیغام میں کہا گیا کہ آج دھشتگرد ٹولے، مسلمانوں کے گھر جلانے، بچوں اور عورتوں کو اسیر کر کے انہیں زندہ زندہ نذر آتش کرنے جیسے اقدامات انجام دے کر اسلام کا نادرست چہرہ غیرمسلمانوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
سعودی بادشاہ نے اپنے پیغام میں کہا: دھشتگردی ایسی آفت ہے جو فقیر عربی قوموں کی جانوں پر پڑی ہے تاکہ انہیں ترقی اور پیشرفت سے روکے، آج تمام ممالک اور تنظیموں کو دھشتگردی کا مقابلہ کرنے میں دوگنی کوشش کرنا چاہیے۔

شیخ الازھر: داعش ہمارے مفتیوں اور دینی درسگاہوں کے افکار کا نتیجہ
شیخ الازھر نے اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک کو مخاطب کر کے کہا کہ اسلام رحمت، صلح و بھائی چارگی کا دین ہے اسلام وہ نہیں ہے جو دھشتگرد اسلام کے نام پر دنیا کو دکھلا رہے ہیں۔
ڈاکٹر احمد الطیب نے تکفیری ٹولیوں پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا: ان ٹولیوں نے قرآن کے احکام اور پیغمبر (ص) کے فرامین کی طرف پیٹھ موڑ کر ایسے جرائم انجام دئے ہیں جن کی مثال تاریخ اسلام میں نظر نہیں آتی۔ قرآن کریم کے مطابق مسلمان بہترین امت ہیں اور حقیقی اسلام کسی بھی صورت میں ان جرائم کی تائید نہیں کرتا اور کسی بھی قیمت پر ان کے انجام دینے والوں کو نہیں بخشتا۔
انہوں نے وہابی مفتیوں اور ان کی درسگاہوں جن میں قرآن و سنت کی غلط تفسیر بیان کر کے تکفیری دھشتگردوں کا مائنڈ واش کیا جاتا ہے پر شدید انتقاد کرتے ہوئے کہا: یہ غلط تفسیریں اور انحرافی تاویلیں باعث بنتی ہیں کہ ہماری دینی درسگاہیں اور یونیورسٹیاں معمولی معمولی باتوں پرمسلمانوں کو کافر قرار دیں۔ لہذا جب تک ہم اپنی درسگاہوں اور یونیورسٹیوں میں موجود غلط طریقہ کار کی اصلاح نہیں کریں گے اور ان سے اتنہاپسندی کی فکر کو ختم نہیں کریں گے تو اس امت میں اتحاد اور بھائی چارگی کے قیام کی آرزو کرنا فضول ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ دھشتگرد ٹولے جو من گھڑت روایات کا سہارا لے کر اتنی بے دردی سے زندہ زندہ افراد کو جلاتے ہیں یہ اسلام کے الف سے بھی واقف نہیں ہیں۔ اسلام رحمت، بردباری اور محبت کا دین ہے اور ہمیشہ صلح اور امنیت کا خواہاں رہا ہے۔ پیغمبر اکرم تو دشمن کے اسیروں کو بھی قتل کرنے سے منع کرتے تھے چہ بہ رسد کہ خود مسلمانوں کے قتل کا حکم دیں۔
شیخ الازھر نے کہا: داعش جو آج اسلام کے نام پر ہر طرح کے جرم کو با آسانی انجام دیتا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس ٹولے میں موجود افراد اپنے اپنے علاقوں میں مالی مشکلات کی بنا پر جرائم پیشہ ہو گئے تھے جو داعش کی طرف سے دی گئی پیسے کی لالچ پر اس گروہ میں شامل ہو گئے ہیں۔

آل الشیخ: دھشتگردی سب سے بڑی وبا ہے اس کی بیخ کنی کرنے کی ضرورت ہے۔
مکہ مکرمہ میں جاری عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں سعودی عرب کے مفتی اعظم نے دھشتگردی کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: امت مسلمہ کو اس وقت سب سے زیادہ صحیح اسلامی تعلیمات کی ضرورت ہے۔
عبد العزیز بن عبد اللہ آل الشیخ نے کہا: دھشتگردی ایسی مشکل ہے جو کسی ایک سماج سے مخصوص نہیں بلکہ اس وقت تمام اسلامی اور غیر اسلامی ممالک اس مشکل سے دوچار ہیں۔ لہذا اس کی بیخ کنی کرنا چاہیے چونکہ یہ سب سے بڑا شر اور وبا ہے۔
انہوں نے گزشتہ دو خطیبوں کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے دین رحمت و محبت ہے اور خداوند عالم قتل و غارت اور دھشتگردی کو حرام قرار دیتا ہے دھشتگردوں کے ساتھ جنگ اسلام کا بنیادی قانون اور اصول ہے۔
سعودی عرب کے مفتی اعظم نے دھشتگردوں کے خود کش حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دین اسلام نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اور اس کی سزا جہنم بتائی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب تاہم شام میں سلفی وہابی دہشت گردوں کی بہت بڑی مالی امداد کرتا رہا ہے جبکہ سعودی مفتیوں نے جہادی فتوؤں کے ذریعے سلفی وہابی دہشت گردوں کی بےپناہ حمایت کی ہے سعودی مفتیوں نے حتی جہاد النکاح کے نام پر عورتوں کو بھی دہشت گردوں کے ساتھ نکاح کرنے کی ترغیب دی ۔ لیکن آج وہی سعودی عرب اپنے بہیمانہ اقدامات سے پشیمان ہو کر سلفی وہابی دہشت گردوں کی پر زور الفاظ میں مذمت کررہا ہے۔ سعودی عرب اب دہشت گردوں کی اس لئے بھی مذمت کررہا ہے کہ داعش دہشت گرد تنظیم نے اپنے خلیفہ ابو بکر البغدادی کے جانشین مکہ اور مدینہ میں مقرر کردیئے ہیں۔




۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲