اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ یہ اشیاء چھ ہزار ریال سے لے کر ایک لاکھ پچاس ہزار ریال کے درمیان فروخت کی جارہی ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کچھ ورکرز یہ اشیاء خریداروں کو فروکت کرتے پائے گئے ہیں۔
ایک خریدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کے پاس مسجد الحرام سے حاصل ہونے والے اصلی حصے موجود ہیں، جو انہوں نے توسیعی کاموں کے دوران خریدے تھے۔ اس خریدار کا دعوی تھا کہ حرمین الشریفین کے نگران ادارے کے گودام اور ٹھیکے داروں سے براہ راست یہ اشیاء باہر آئی ہیں اور دیگر لوگوں کے ذریعے بھی جو مکہ کی تاریخ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
مذکورہ خریدار کا کہنا تھا کہ اس نے بعض اشیاء کی قیمتوں کا تعین خود کیا ہے، مثال کے طور پر زم زم کے کنویں کے تہہ خانے سے نکالے جانے والے ایک ٹائل کی جسے 1954ء میں شاہ سعود کی جانب سے شروع کیے گئے توسیعی منصوبے کے دوران نکالا گیا تھا، قیمت چھ ہزار ریال ہے۔‘‘
اس کا کہنا تھا کہ ’ تانبے کے ٹکڑے کی قیمت، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر مبارک کا کور تھا، ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔ مذکورہ خریدار کا کہنا ہے کہ ان اشیاء نے اپنی مارکیٹ پیدا کرلی ہے، اس لیے کہ ان میں سے بہت سے کافی قدیم ہیں اور خلافتِ راشدہ اور خلافتِ عثمانیہ کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔
اس خبر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے حرمین الشریفین کے امور کے نگران ادارے نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔ اس ادارے کے ترجمان احمد المنصوری نے حال ہی میں کہا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ ملنے والے تمام نوادرات کا ریکارڈ موجود ہے اور جیوگرافک انفارمیشن سسٹم کے نظام کے تحت اس پر نظر رکھی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام ان تمام نایاب اشیاء پر نظر رکھتا ہے جو دس سال قبل توسیعی کام کے دوران اس مسجد سے نکالی گئی تھیں، یا پائی گئی تھیں۔ اس میں کئی سال قبل تعمیر کیے جانے والے پرانے ستون بھی ہیں، جو حال ہی میں مقامی طور پر ڈسپلے کے لیے رکھے گئے ہیں۔
.......
/169