اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حضرت آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے شکارپور کی امام بارگاہ میں کئے گئے دھشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھشتگردانہ واقعہ تکفیری وہابی تفکرات کا نتیجہ ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے قم کی مسجد اعظم میں اپنے درس کے دوران کہا: یہ واقعہ تکفیری تعلیمات کا نتیجہ ہے جس میں سو کے قریب بےگناہ لوگوں کو شہید اور زخمی کر دیا گیا۔
شیعوں کے مرجع تقلید نے زور دے کر کہا: ہم اس دھشتگردانہ کاروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس طرح کی تمام دھشتگردانہ کاروائیاں جہاں جہاں ہو رہی ہیں سب قابل مذمت ہیں۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ تمام جرائم تکفیری وہابیت کے شجرہ ملعونہ کے آثار ہیں کہا: ان انسان کش، مردہ ضمیر اور درندہ صفت افراد کو نہیں معلوم کون سی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ خود کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اللہ کے گھر میں بے گناہ عورتوں اور بچوں کو خاک و خوں میں غلطاں کریں۔
موصوف نے مزید کہا: کہاں تاریخ بشریت میں ایسے واقعات ملتے ہیں؟ اس شجرہ خبیثہ کی معقول طریقے سے جڑیں خشک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شیعہ سنی مسلمان سکون کی سانس لے سکیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے آخر میں اپنے درس میں موجود تمام شاگردوں سے اس واقعہ میں شہید ہونے والوں کے لیے سورہ فاتحہ پڑھوائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲