2 فروری 2015 - 09:59
ملک کے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں انہیں بھرپور حقوق دئے جائینگے، بھارتی وزیراعظم

سیکولرازم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ یہ نام لے کر کانگریس ووٹ بٹور رہی ہیں ملک کے آئین نے ہر شہری کو یہ حق فراہم کیا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزاریں، اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور ہمیں ہر ایک مذہب کا احترام کرنا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مسلمانوں کو خوفزدہ نہ ہونے کی تلقین کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ملک کے عوام کو بہتر انصاف فراہم کرنے کیلئے سیول کوڈ کا نظام رائج کرنے کی بھارتیہ جنتا پارٹی پابند ہے تاہم انتہا پسندی کو ختم کرنے اور ملک میں اتحاد و اتفاق برقرار رکھنے کیلئے بات چیت ضروری ہے۔ ہر مذہب کا ملک میں احترام ہونا چاہئے اور کسی بھی مذہب کے ماننے والے لوگوں کے ساتھ بھی انصاف کیا جانا چاہئے، ذرائع کے مطابق نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامے کے ساتھ انٹرویو کے دوران نریندر مودی نے ملک میں سیول کوڈ نظام رائج کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مختلف مذاہب کے لوگوں کا ماننے والا ملک ہے اور ہر فرقے کے لوگوں کو برابر انصاف ملنا چاہئے، بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے گا اور ہم اپنے وعدے کو نبھانے کے پابند ہیں، بھارتی وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ملک کے تمام لوگوں کو ہندوازم ماننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے، یونیفارم سیول کوڈ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں جتنے بھی لوگ رہتے ہیں کہ وہ ہندوزم کو اختیار کریں، انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں میں مسلمانوں کیلئے کام کرنا چاہتا ہوں اور انہیں پورا پورا انصاف فراہم کرنے سے بھی دریغ نہیں کرؤں گا، سیکولرازم کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ یہ نام لے کر کانگریس ووٹ بٹور رہی ہیں ملک کے آئین نے ہر شہری کو یہ حق فراہم کیا ہے کہ وہ پرسکون زندگی گزاریں، اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور ہمیں ہر ایک مذہب کا احترام کرنا چاہئے۔ ملک سے انتہا پسندی ختم کرنے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے کہا کہ اتحاد و اتفاق کو اگر برقرار رکھنا ہیں اور انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تو اس کیلئے بات چیت بہتر طریقہ کار ہے جس پر عمل کیا جانا چاہیے۔

.......

/169