اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق بشار جعفری نے جو ماسکو اجلاس میں شامی حکومت کے وفد کے سربراہ تھے روس کے نائب وزیر خارجہ گاتیلوف سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ یہ مذاکرات اس مثبت فضا کے پیش نظر جو شام میں محاذ آرائی کو روکنے اور تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے وجود میں آئی ہے، بہت اہمیت رکھتے ہیں- شام سے متعلق ماسکو اجلاس گزشتہ ہفتے پیر سے جمعرات تک ماسکو میں ہوا تھا جس میں شامی حکومت کے وفد کی قیادت اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بشار جعفری نے کی جبکہ مخالف گروہوں کے تیس افراد نے ان مذاکرات میں شرکت کی- یہ مذاکرات شام کے مسائل کے سیاسی حل کے لئے ایک نیا قدم شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شام میں قومی آشتی کے لیے مذاکراتی عمل میں جان ڈالی ہے - اس سلسلے میں شام کی حکومت کے مخالف بعض رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں آئندہ ہفتوں کے دوران مذاکرات کے اگلے دور کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنی آمادگي کا اعلان کیا ہے- شامی حکومت کےایک مخالف رہنما سمیر عطیہ نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شامی حکومت کے وفد اور مخالفین نے ماسکو اجلاس کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جس نے شام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، مناسب موقع فراہم کیا ہے- سمیر عطیہ نے مزید کہا کہ روس نے آئندہ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگي کا اعلان کیا ہے اور شامی حکومت کے مخالف سیاستدان اور حکومتی وفد ان مذاکرات میں شرکت کرے گا- شامی حکومت کے ایک اور مخالف رہنما مجید حبو نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے ماسکو اجلاس میں سیاسی مذاکرات کے عمل کا احیاء دیکھا جو جنیوا مذاکرات کا تسلسل ہے اور یہ موضوع بہت اہمیت رکھتا ہے- شامی حکومت کے مخالف ایک اور سیاسی رہنما جمال سلیمان نے بھی جنہوں نے خود کو ایک غیر جماعتی اور آزاد مخالف رہنما کے طورپر متعارف کرایا پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم جنگی اقدامات کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے شامی فریقوں کے آپسی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں- انہوں نے کہا کہ داعش کے دہشت گردوں نے نہ صرف شام کے فوجیوں کو بلکہ حکومت مخالف افراد اور مسلح جنگجوؤں کو بھی قتل کیا ہے- واضح رہے کہ روس کے دارالحکومت ماسکو میں شامی حکومت کے مخالف بعض رہنماؤں اور شام کےصدر بشار اسد کے نمائندوں کے درمیان گزشتہ ہفتے اہم مذاکرات انجام پائے جس کی بنا پر اب مخالف رہنماؤں نے زیادہ حقیقت پسندانہ اور قابل قبول بیانات دیے ہیں-
.......
/169